.

''تہ تیغ کسی دہشت گرد کو ذہنی عارضہ لاحق نہیں تھا''

سعودی عدالتیں مدعاعلیہان کو صفائی کا بھرپور موقع دیتی ہیں: وزیرانصاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر انصاف اور سپریم جوڈیشیل کونسل کے چئیرمین ولید آل سمعانی نے ان رپورٹس کو مسترد کردیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ ہفتے جن دہشت گردوں کے سرقلم کیے گئے تھے،ان میں سے بعض ذہنی عارضے میں مبتلا تھے۔

انھوں نے بیان میں کہا ہے کہ سعودی عدلیہ اہل اور پیشہ ور ہے۔وہ شواہد اور سرکاری میڈیکل رپورٹس کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہے۔آل سمعانی نے واضح کیا کہ فوجداری عدالتیں مدعاعلیہان کو فردجرم عاید کیے جانے کے بعد اپنی صفائی کا بھرپور موقع دیتی ہیں۔انھیں اپنے دفاع کے لیےکافی وقت دیا جاتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ''مدعاعلیہان کو اپنی پیروی کے لیے وکلاء کی خدمات لینے کا حق حاصل ہے۔اگر کوئی مدعاعلیہ وکیل کرنے کی سکت نہیں رکھتا یا اس کو کوئی وکیل نہیں ملتا تو پھر وزارت اس کی پیروی کے لیے وکیل کا بندوبست کرنے کی ذمے دار ہوتی ہے''۔

انھوں نے مزید بتایا کہ خصوصی فوجداری عدالت میں جن مدعاعلیہان کے خلاف مقدمات چلائے جاتے ہیں،ان میں سے چالیس فی صد کو وزارت عدل کی جانب سے وکلاء مہیا کیے جاتے ہیں اور ان کا تمام خرچہ وزارت ہی اٹھاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزارت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ جرم سے متعلق کافی ثبوت فراہم کیے جائیں اور ملزم کے بارے میں یہ اصول اپنایا جاتا ہے کہ ''وہ جب تک قصور وار ثابت نہیں ہوجاتا ہے،بے گناہ ہے''۔مزید برآں مدعاعلیہ کو عدالت کے حکم کے خلاف اپیل کا حق بھی دیا جاتا ہے۔وہ اپنے حق میں گواہوں کو بلا سکتے ہیں اور عدالت انصاف اور شفافیت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ان تمام درخواستوں کی منظوری دیتی ہے''۔

انھوں نے مزید بتایا کہ عربی بولنے کی صلاحیت نہ رکھنے والے مدعاعلیہان کو عدالت مترجم کی خدمات مہیا کرتی ہے۔دہشت گردی کے کیسوں کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ عدالت جرم کے تمام پہلوؤں کو دیکھتی ہے ،وہ دہشت گردوں کے لیے رقوم کی فراہمی ،ان کی تنظیم اور بھرتی کے معاملات کا جائزہ لیتی ہے اور یہ انصاف کی فراہمی کے لیے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ بنیادی معیارات ہیں۔

ان کے بہ قول دہشت گردی کے جرائم دوسروں سے اس لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں کیونکہ ان میں کسی ایک فرد کو نشانہ نہیں بنایا جاتا ہے بلکہ پورے معاشرے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے اور افراتفری پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے،اس لیے اس جرم کا یہ تقاضا ہوتا ہے کہ اس سے اس کے خطرے اور اثرات کی روشنی میں نمٹا جائے۔

آل سمعانی نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ سعودی عدالتوں میں شریعت کے اصولوں کے عین مطابق مقدمات کی سماعت شفاف ،منصفانہ اور بالکل واضح انداز میں کی جاتی ہے اور مدعاعلیہان یا درخواست گزاروں کو کسی بھی حوالے سے انگلی اٹھانے کا موقع فراہم نہیں کیا جاتا ہے۔