.

دمشق کی سڑکوں پر ایرانی وزیر داخلہ کے سیر سپاٹے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بشار الاسد کے ظالمانہ اقتدار کو بچانے کی خاطر شام میں ایران کی فوجی مداخلت تو اب کھلا راز ہے، جہاں سے آئے روز ایرانی فوجیوں کے تابوت تہران روانہ ہوتے ہیں تاہم حالیہ چند دنوں سے دمشق، تہران سے آنے والی سیاسی قیادت کا بھی پایہ تخت بنا ہوا ہے۔

اس سلسلے میں تازہ ترین دورہ ایرانی وزیر داخلہ عبدالرضا رحمانی فضلی کا تھا جسے ایرانی خبر رساں اداروں نے نمایاں تصویری کوریج دی۔ عبدالرضا رحمانی فضلی اپنے محافظوں کے جلو میں اولڈ دمشق کے بازاروں سے گزرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ تصاویر میں پتھروں سے بنی سڑک اور اردگرد بنی پرانی عمارتیں بھی نمایاں ہیں۔

ادھر ایرانی ذرائع ابلاغ نے شام میں ایک اور ایرانی جنرل سعید سیاح طاھری کی ہلاکت کی خبر نشر کی ہے۔ جنرل طاھری کا شمار ان سینئر فوجی عہدیداروں میں ہوتا ہے کہ جنہوں نے عراق کے خلاف ایرانی معرکے میں حصہ لیا۔ جنرل طاھری کے علاوہ پاسداران انقلاب کے ذیلی ادارے الباسیج کے 6 جنگجووں کے بھی معرکہ حلب میں کام آنے کی اطلاعات ہیں۔

گزشتہ دو دنوں کے دوران شامی شہر حلب میں ہونے والی لڑائی کے دوران مارے جانے والے الباسیج ملیشیا کے اہلکاروں کے نام یہ ہیں: علی رضا مرادی، مرتضی کریمی، حسین امیدواری، حسین محمد آجند اور تہران سے تعلق رکھنے والے مصطفی جکینی شامل ہیں۔ مرنے والوں میں کرج شہر میں باسیج ملیشیا کی 'مہر شھر' فوجی بیس سے منسلک محمد اینانلو بھی شامل ہیں۔

ایران کے سرکاری میڈیا نے گزشتہ ہفتے پاسداران انقلاب کے 7 دیگر جنگجووں کی شام میں ہلاکت کی خبر دی تھی۔ ان کی تدفین ان کے آبائی علاقوں میں کی جا چکی ہے۔