.

فرانسیسی میگزین کا "ایلان کی موت" پر تمسخر

زندہ رہتا تو ہراساں کرنے والا بن جاتا !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

7 جنوری 2015 کو فرانسیسی میگزین چارلی ایبڈو کو دہشت گرد حملے کا نشانہ بنایا گیا تو دنیا نے میگزین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جس میں بہت سے عرب ممالک بھی شامل تھے۔ اس روز یکجہتی کا اظہار کرنے والوں میں سے کسی نے بھی ان "برائیوں اور ایذا رسانیوں" کی جانب اشارہ نہیں کیا، جن کا ارتکاب میگزین کی جانب سے ہر چیز کی تضحیک کے ذریعے کیا جاتا رہا۔ مذہب سے لے کر مہاجرین تک اور ان کے علاوہ بہت سے امور جو بعض کے نزدیک تقدس کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لیے کہ تمام تر معیارات "نشانہ بننے والے شکار" کے ساتھ اور میڈیا کی آزادی کی صف میں کھڑے ہونے کا تقاضہ کررہے تھے۔

یہ تمام باتیں ایک طرف،،، مگر بالواسطہ طریقے سے ہی اس جانب اشارہ کرنا کہ ایک بچے کی "افسوس ناک" طریقے سے واقع ہونے والی موت اس سے بدرجہا بہتر ہے کہ وہ (بچہ) زندہ رہتا، کیوں کہ بڑا ہو کر وہ (جنسی طور پر) ہراساں کرنے والا بن سکتا تھا۔ درحقیقت یہ مزاح کی حس سے بہت زیادہ تجاوز کرجانا ہے بلکہ یہ مہاجرین کے حوالے سے نسلی تعصب سے بھی متجاوز ہوکر "فسطائیت" میں تبدیل ہوجانے والی چیز ہے۔

لبنان کی جنگ میں بھی "بعض لوگوں" نے اسی طرح کا "گھناؤنا" کارڈ کھیلتے ہوئے چھوٹے بڑے تمام فلسطینیوں کو قتل کردینے پر زور دیا تھا، کہ یہ لوگ مستقبل میں جنگجوؤں میں تبدیل ہوجائیں گے !

فرانسیسی میگزین نے بھی کارٹون بنا کر اسی طرح کا کام کیا ہے۔ وہ بھی ایک ایسے موضوع کے حوالے سے جس کے قریب سے مزاح کا گزر بھی نہیں ہوسکتا۔ میگزین نے اپنی بدھ کی اشاعت میں ایک اندرونی صفحے پر دیے گئے کارٹون میں شامی بچے "ایلان" کردی کی ساحل پر پڑی لاش کی تصویر شائع کی ہے۔ درمیان میں "مہاجر" نوجوانوں کو ایک لڑکی کا پیچھا کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

اس سے ہراسیت کے ان واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو سال نو کی رات کولونیا جرمنی میں پیش آئے تھے اور کہا گیا تھا کہ ان واقعات میں مہاجر اور پناہ گزین افراد ملوث ہیں۔ تاہم جرمن پولیس نے تحقیقات کے بعد اس امر کی تصدیق کی تھی کہ یہ واقعات مصنوعی تھے جن کی منصوبہ بندی سوشل ویب سائٹس کے ذریعے عمل میں لائی گئی تھی۔

کارٹون پر یہ عبارت بھی تحریر ہے کہ "اگر ایلان بڑا ہوجاتا تو وہ کیا بنتا ؟"

بہرکیف مختصرا یہ کہ میگزین کا کہنا ہے کہ ایلان کی موت اس کی زندگی سے بہتر ہے۔

المیہ کسی تضحیک کا متحمل نہیں ہوتا

دوسری جانب اس کارٹون کو بنانے والے کارٹونسٹ لورن سوریسو کا کہنا ہے کہ اس نے یہ کارٹون اس چیز کے اظہار کے لیے بنایا ہے "جس کی دوسرے جرات نہیں رکھتے"۔ سوریسو نے مزید کہا کہ میں نے اس موضوع کو زیادہ واضح شکل میں پیش کرنے اور لوگوں کو سوچنے پر مجبور کرنے کا ارادہ کیا، نہیں تو لوگ ہمیشہ سوچ کے ایک ہی زاویے میں رہتےہوئے زندگی گزار دیں گے"۔

​اس کارٹون نے فرانسیسی، یورپی اور عالمی حلقوں میں وسیع تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔ ساتھ ہی یہ سوالات بھی جنم لے رہے ہیں کہ عمومی آزادی اور اخلاقی طور پر قابل قبول حد کے درمیان تعلق کی تعریف کیا ہوگی؟

ایلان جس کو سمندر کی موجوں نے بے جان لاشے کے طور پر ترکی کے ایک ساحل پر اچھال دیا تھا۔ یہ بچہ اپنی سرخ قمیص اور چھوٹے سے چہرے کے ساتھ کسی بھی "اشتعال" یا ادنی درجے کی "تضحیک" کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ جی ہاں المیہ کسی طور بھی ہنسی اڑائے جانے یا نسل پرستی یا اشتعال کا متحمل نہیں ہوتا،،، اور کم از کم یہ ہی بات سوشل ویب سائٹس پر اور مغربی میڈیا میں سامنے آنے والے ناگواری کے درعمل سے ثابت ہوگئی ہے۔