.

امریکا: ملحدین کی جانب سے کرنسی نوٹ کی تبدیلی کا مقدمہ دائر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

"ہم خدا پر ایمان رکھتے ہیں"... کاغذی اور دھاتی ڈالر پر چسپاں اور کنندہ اس عبارت نے امریکی ملحدین کو طویل عرصے سے پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے کئی مرتبہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تاکہ قانون بھی اس حوالے سے ان کا ساتھ دے، تاہم انہیں ہمیشہ خالی ہاتھ ہی لوٹنا پڑا۔

دو روز قبل اوہایو ریاست کے شہر ایکرون میں ان ملحدین کی جماعت نے ایک مرتبہ پھر نئے پہلوؤں کے ساتھ مقدمے کی درخواست دائر کی ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ امریکا میں ہی سبز کرنسی کے علاوہ دوسری کرنسی پر اور براعظم امریکا میں واقع دو ملکوں کی کرنسیوں پر In God We Trust (کی عبارت) کا موجود ہونا یہ غیر آئینی ہونے کے ساتھ ساتھ چرچ کو ریاست سے علاحدہ رکھنے کے بھی مخالف ہے۔ امریکی وزارت خزانہ کے خلاف مقدمہ دائر کرنے والی جماعت کے وکیل مائیکل نیوڈاؤ کا کہنا ہے کہ مذکورہ عبارت سے اس کے مؤکلین کے جذبات بھی مجروح ہوتے ہیں۔ اوہایو کی عدالت آئندہ ہفتے مقدمے کی سماعت کرے گی۔

ریاست کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والا یہ وکیل اس سے قبل امریکی وفاداری کا حلف اٹھانے والوں کے لیے دو لازمی الفاظ Under God کو بھی ختم کرانے کی ناکام کوشش کرچکا ہے۔

العربیہ نیٹ نے امریکی ذرائع ابلاغ کی ویب سائٹوں کے جائزے کے حوالے سے بتایا ہے کہ "ہم خدا پر ایمان رکھتے ہیں" کی عبارت 1782 سے دنیا کی مشہور ترین کرنسی کے نوٹ پر چسپاں ہے۔ بعد ازاں 1864 میں اس کو پہلی مرتبہ 2 سینٹ کے سکے پر کندہ کیا گیا۔

"ہم ان میں سے نہیں کیوں کہ ہم درحقیقت ایمان رکھنے والے نہیں ہیں"

وکیل مائیکل نیوڈاؤ امریکا کے معروف ملحدین میں سے ہے۔ وہ اس حد تک الحاد کا شکار ہے کہ اپنے مقدمات میں لفظ God نہیں لکھتا بلکہ صرف G-D پر اکتفا کرتا ہے۔ تریسٹھ (63) سالہ نیوڈاؤ نے 1997ء میں FACTS کے نام سے ایک تنظیم بھی بنائی۔ یہ تنظیم اپنے ہمنواؤں (ملحدین) کی سوشل ویب سائٹوں پر فورمز کے ذریعے رہ نمائی کرتی ہے۔

تنظیم اس امر کی استدعا کرتی ہے کہ مذکورہ عبارت اشکالات کا دروازہ کھولتی ہے اور ایک مذہب کے نظریے کو فروغ دیتی ہے، لہذا ایمان نہ رکھنے والوں کی رائے میں یہ امریکی آئین سے انحراف ہے۔ مقدمے کی درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے پیچھے مذہبی مقصد بھی کارفرما ہے۔ عبارت میں استعمال ہونے والے لفظ We (ہم) سے مراد ہے "سب" جب کہ "ہم ان (سب) میں سے نہیں کیوں کہ ہم درحقیقت ایمان رکھنے والے نہیں ہیں۔" اس سے قبل 2011 میں جب ایک امریکی عدالت نے اسی نوعیت کے مقدمے کی درخواست مسترد کردی تھی تو ملحد وکیل مائیکل نیوڈاؤ نے بیان دیا تھا کہ "اب ملحدین امتیازی سلوک کا شکار ہیں، بالکل اسی طرح جیسا کہ ماضی میں سیاہ فام تھے۔"

کرنسیوں پر عبارت کی وجہ کیا ہے؟

برازیل میں بھی 2012ء میں کرنسی کو مذہبی عبارتوں سے پاک کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ملک میں ملحدین کی انجمن نے برازیلی کرنسی کی تمام اقسام پر سے Deus Seja Louvado (جس کا مطلب "خدا کا شکر" سے ملتا جلتا ہے) کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس بنیاد پر کہ ملک سیکولر ہے لہذا اس پر کوئی مذہبی چھاپ نہیں نظر آنی چاہیے۔ ساتھ ہی یہ کہ یہ عبارت ملک کی اقلیتوں کے جذبات کو مجروح کرتی ہے۔ تاہم عدالت میں دائر درخواست کو "کسی بھی شہری کے جذبات مجروح ہونے کی تصدیق نہ ہونے پر" تین ہفتوں کے بعد خارج کردیا گیا۔ علاوہ ازیں کرنسی تبدیل کرنے پر اس وقت تقریبا 60 لاکھ امریکی ڈالر لاگت آرہی تھی۔

ادھر امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے 2003 میں کرائے گئے ایک سروے کے مطابق کرنسی پر موجود مذہبی عبارت کو 90 فی صد لوگ قبول اور صرف 3 فی صد مسترد کرتے ہیں جب کہ بقیہ 7 فی صد کی اس حوالے سے کوئی رائے نہیں۔

یہ ہی عبارت ہمیں دو امریکا کی دو ریاستوں جورجیا اور فلوریڈا کے پرچموں پر بھی نظر آتی ہے۔ اور اگر ہم امریکی اور برازیلی سرحدوں کو پار کرکے آگے بڑھیں تو ہم اسے En Dios Confiamos کے ہسپانوی الفاظ کے ساتھ نیکارگوا کی دھاتی کرنسی "کوردوبا" پر پائیں گے۔ اور ان سب کا مقصد ہے کہ انسان کو سب سے خطرناک ممنوعہ میں پڑنے سے بچا لیا جائے، اور وہ یہ ہے کہ انسان (مال عطا کرنے والے) خدا کی عبادت کے بجائے مال رکھنے والے کی پرستش کرنے لگے۔