.

حزب اللہ، داعش اور بشار شامیوں میں بھوک بانٹنے لگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#ہلال_احمر کی بین الاقوامی کمیٹی کے ڈائریکٹر آپریشنز ڈومینک اسٹیل ہارٹ نے #مضایا اور #شام کے دیگر علاقوں کے محاصرے کو قرونِ وسطیٰ کی حکمت عملی قرار دیا ہے۔ انہوں نے یہ بات بین الاقوامی تنظیم کو مضایا میں درپیش بدترین حالات اور شام کے دیگر علاقوں میں #حزب_اللہ، #بشار_الاسد اور #داعش کی ملیشیاؤں کی جانب سے مسلط محاصرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہی۔

شامی علاقوں میں صبح شام راکٹوں اور دھماکا خیز مواد سے بھرے ڈرموں کا گرنا معمول بن چکا ہے، ساتھ ہی ساتھ ان علاقوں کا غیر انسانی محاصرہ جلتی پر تیل کا کام کررہا ہے۔

ہلال احمر نے امید ظاہر کی ہے کہ مضایا، کفریا اور الفوعہ میں امدادی سامان کے داخل ہونے سے دیگر علاقوں میں بھی محاصرہ اٹھائے جانے کی راہ ہموار ہوگی۔

شامی حکومت اور اس کے حلیفوں نے #دمشق کے نزدیک واقع شہر معضمیة الشام، فلسطینی پناہ گزین کیمپ یرموک، داریا شہر، کناکر اور الزبدانی سے لبنانی سرحد کے قریب واقع مضایا قصبے کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ اس کے علاوہ الغوطہ الشرقیہ میں دوما شہر کا سخت محاصرہ جاری ہے۔

ادھر حزب اللہ اور حکومت کی ملیشیاؤں نے القلمون کے راستے پر واقع قصبے التل کے علاوہ #حمص میں الحولہ، تلبيسہ، الرستن اور الوعر شہروں کو بھی محاصرے کی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ جہاں تک داعش تنظیم کی بات ہے تو وہ مشرقی القلمون میں دو قصبوں جیرود اور رحیبہ کے محاصرے میں شریک ہے جب کہ دیر الزور میں بھی کئی محلے محاصرے میں گھرے ہوئے ہیں۔

اس دوران "ٹیلی گراف" اخبار نے محاصرے کا سامنا کرنے والے درجنوں علاقوں میں دس لاکھ سے زیادہ شامی باشندوں کے غذائی قلت کا شکار ہونے کا عندیہ دیا ہے۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے محاصرے میں گھرے افراد کو درپیش فاقہ کشی کو جنگی جرم قرار دیا تھا۔