.

ایران پر یورپی پابندیاں مزید دو ہفتوں کے لئے معطل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#یورپی_یونین نے #ایران پر عاید پابندیوں کو مزید دو ہفتوں کے لئے منجمد کردیا ہے۔ اس اقدام سے #اقوام_متحدہ کی جانب سے ایران کی نیوکلئیر معاہدے کی پاسداری کی تصدیق کے بعد پابندیوں کے مکمل خاتمے کا راستہ صاف ہوگیا ہے۔

جوہری توانائی سے متعلق بین الاقوامی ایجنسی [آئی اے ای اے] کی جانب سے جلد ہی یہ اعلان متوقع ہے کہ ایران جولائی میں عالمی طاقتوں کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے عین مطابق اب نیوکلئیر ہتھیار حاصل نہیں کرسکتا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ امور سروس کی جانب جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ "یورپین کونسل نے نومبر 2013 کے جوائنٹ پلان آف ایکشن کے مطابق ایران کے خلاف عاید کچھ پابندیوں کو 28 جنوری 2016ء تک مزید معطل کردیا ہے۔"

یورپی یونین کے مطابق ان پابندیوں کو منجمد کرنے سے جولائی میں ہونے والے تاریخی معاہدے کے اطلاق اور پابندیوں کو مکمل طور پر اٹھانے کی تیاریاں مکمل کرنے کا وقت مل جائے گا۔"

بیان میں مزید کہا گیا کہ "جیسے ہی 'آئی اے ای اے' کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی جائے گی کہ ایران نے نیوکلئیر معاہدے کی پاسداری میں تمام اقدامات اٹھا لئے ہیں، یورپی یونین ایران پر عاید تمام معاشی پابندیاں اٹھالے گی۔

یورپی یونین کی ثالثی میں عالمی طاقتوں کے ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری مذاکرات سے قبل امریکا، روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ مذاکرات کی گاڑی کو چلانے کے لئے ایران سے کچھ پابندیاں جذبہ خیر سگالی کے طور پر اٹھا دی جائینگی۔

ان پابندیوں کو مذاکرات کے دوران کئی بار معطل کیا گیا جب کہ نیوکلئیر معاہدے کے بعد اس میں چھ ماہ کے لئے توسیع کردی گئی تھی تاکہ ایران اس دوران معاہدے کی تمام شرائط کو پورا کرلے۔