.

استنبول کے خودکش حملہ آور کے بارے میں نئی معلومات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#ترکی میں دو سینئر ذمہ داروں نے بتایا ہے کہ #استنبول میں گزشتہ ہفتے خودکش حملہ کرنے والا شامی باشندہ نبیل فضلی #انقرہ میں سال نو کی تقریبات کے دوران ایک بڑے حملے کا ارادہ رکھتا تھا، تاہم اس کے منصوبے کو ناکام بنا دیے جانے کے بعد اس نے اپنے ارادے میں تبدیلی کرلی۔ استنبول کی دہشت گرد کارروائی میں 10 جرمن سیاح ہلاک ہوگئے تھے۔

خودکش حملہ آور کے بارے میں سامنے آنے والی نئی معلومات کے مطابق وہ شام میں #داعش کی صفوں میں بطور جنگجو لڑچکا ہے۔ اس سے پہلے ترکی وزیراعظم #داؤد_اوگلو نے اس امر کی تصدیق کی تھی کہ وہ ملک میں بطور عام مہاجر داخل ہوا تھا۔ دونوں سینئر ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ نبیل فضلی کسی وقت قید بھی ہوچکا ہے اور شامی کرد ملیشیاؤں کے ہاتھوں اسے تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا، جب کہ #شام میں ایک کرد ذمہ دار نے اس بات کی تردید کی ہے۔

ترک حکام نے پانچ جنوری کو پناہ گزین کے طور پر فضلی کی رجسٹریشن کی تھی۔ اس کے ایک ہفتے بعد اس نے استنبول کے سلطان اسکوائر پر سیاحوں کے درمیان خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔ اس کارروائی سے ترکی میں سیاحت کے قلب پر کاری ضرب لگی.

سال نو پر دھماکے اور منصوبے میں تبدیلی

استنبول دھماکے سے قبل فضلی کی نقل وحرکت کا جائزہ لینے والے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ فضلی کے دو ساتھیوں کے حراست میں لیے جانے کے بعد اس نے اپنا منصوبہ تبدیل کرلیا۔ یہ تینوں نئے سال کا جشن منانے کے لیے انقرہ کے اسکوائر پر جمع ہونے والے ہجوم کے درمیان خود کش دھماکے کی تیاری کررہے تھے۔ اس وقت فضلی حکام کی نظروں میں نہیں آیا کیوں کہ اس کا نام شدت پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے مشتبہ افراد کی ملکی یا بین الاقوامی خصوصی فہرستوں میں نہیں تھا۔

اعلی سطح کے ایک سیکورٹی اہل کار کا کہنا ہے کہ انقرہ میں پولیس کی کارروائی کے بعد خیال ہے کہ اس نے شہر تبدیل کرلیا تاکہ ایک دوسرا حملہ کرسکے۔ ترکی کے انٹیلجنس ادارے نے گرفتار شدگان سے حاصل ہونے والی معلومات کا تبادلہ دیگر ملکوں کے انٹیلجنس اداروں کے ساتھ بھی کیا۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق ان معلومات سے کئی ممکنہ حملوں کو ناکام بنانے میں مدد ملی جن کی منصوبہ بندی یورپ میں کی جارہی تھی۔

استنبول دھماکے سے تعلق کے سلسلے میں 4 افراد گرفتار

اعلی سطح کے ایک ترک سیکورٹی اہل کار کے مطابق چار مزید افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جنہوں نے پانچ جنوری کو فضلی کے ساتھ ساتھ حکام کے پاس اپنی رجسٹریشن کرائی تھی۔ خیال ہے کہ یہ افراد بھی حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والی ٹیم کا حصہ ہیں۔ یہ واضح نہیں ہوسکا کہ فضلی نے دھماکے سے پہلے اپنے نام کی رجسٹریشن کیوں کرائی تھی۔ تاہم بعض اہل کاروں کے نزدیک یہ کوشش اس واسطے تھی کہ شامی پناہ گزینوں کے انسانی سمندر کے ساتھ نمٹنے کے لیے ترکی اور #یورپ کی کوششوں میں مشکلات پیدا کی جاسکیں۔

شام میں تشدد

نبیل فضلی کے 18 دسمبر کو ترکی میں داخل ہونے سے پہلے شام میں گزرے کئی ماہ کے دوران اس کی حرکات معلوم نہیں کی جاسکیں۔ تاہم ترک ذمہ داران کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ داعش کی صفوں میں شامل ہو کر لڑچکا ہے۔

فضلی کے والد سعودی عرب میں بطور ٹیچر ملازمت کرتے تھے اور فضلی مملکت میں ہی پیدا ہوا۔ تاہم ملازمت کے خاتمے کے بعد پورا گھرانہ شام واپس لوٹ گیا۔ سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان منصور الترکی کا کہنا ہے کہ فضلی 1996 میں سعودی عرب سے کوچ کرجانے کے بعد دوبارہ کبھی مملکت نہیں آیا۔

فیس بک پر تبصرہ کرتے ہوئے محمد باقر حسین نامی ایک شخص نے، جو دانتوں کے علاج کے پیشے سے وابستہ ہے، بتایا کہ وہ اسی انسٹی ٹیوٹ میں پڑھتا تھا جس میں فضلی نے تعلیم حاصل کی۔ باقر کے مطابق فضلی کی والدہ کا تعلق حلب (شام) سے ہے اور وہ منبج قصبے میں رہتا تھا جہاں اب داعش کا کنٹرول ہے۔

اس دوران ایک شامی سرگرم کارکن نے بتایا کہ فضلی نے دو سال قبل "احرار الشام" نامی تنظیم میں شامل ہوکر قتال شروع کیا تھا، تاہم بعد ازاں دوسرے بہت سے نوجوانوں کی طرح تنظیم چھوڑ کر "داعش" میں شمولیت اختیار کرلی۔

ترک ذمہ داران نے اس خیال کا بھی اظہار کیا ہے کہ فضلی کو ممکنہ طور پر "پیپلز پروٹیکشن یونٹس" (کردوں کے تحفظ کی مرکزی تنظیم) یا اس کے سیاسی ونگ "ڈیموکریٹک یونین پارٹی" کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

ایک دوسرے سرکاری ذریعے نے بتایا ہے کہ ترک انٹیلجنس اس بات کی تحقیق کررہی ہے کہ ہوسکتا ہے نبیل فضلی نے استنبول حملہ "پیپلز پروٹیکشن یونٹس" یا شامی انٹیلجنس کے دباؤ پر کیا ہو۔