.

بورکینا فاسو: القاعدہ کے حملے میں 23 افراد ہلاک

مہلوکین کا تعلق 18 مختلف ملکوں سے بتایا جاتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مغربی افریقا کے ملک #بورکینا_فاسو میں جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب دارالحکومت #واگا_ڈوگو ایک ہوٹل میں دہشت گردی کے واقعے میں کم سے کم 23 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ سیکیورٹی فوسز کی جوابی کارروائی میں تین دہشت گردوں کے مارے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب مبینہ طورپرالقاعدہ سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے بوگاڈوگو میں واقع ’’سبلانڈیڈ‘‘ ہوٹل میں گھس کر وہاں پرموجود دسیوں افراد کویرغمال بنالیا۔ واقع کے فوری بعد بورکینا فاسو کی پولیس جسے امریکی اور فرانسیسی فورسز کی بھی معاونت حاصل نے ہوٹل میں کلیئرنس آپریشن شروع کیا۔ کئی گھنٹے تک جاری رہنے والے آپریشن کےبعد حکام نے ہوٹل سے 126 افراد کو زندہ نکالنے کی تصدیق کی ہے جب کہ دہشت گردوں کی فائرنگ کی زد میں آکر تئیس افراد مارے گئے۔

بورکینا فاسو کے صدر روچ مارک کریسٹن کابوری نے ہفتے کو ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ ہوٹل میں دہشت گردوں کے حملے میں 23 افراد مارے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کارروائی شدت پسند گروپ #القاعدہ کے جنگجوؤں نے کی ہے۔ صدر کابوری نے دہشت گردی کے اس واقعے کو بزدلانہ قرار دیا۔

قب ازیں بورکینا فاسوکے وزیر برائے سیکیورٹی امور سیمون کومباوری نے سرکاری ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق 18 مختلف ملکوں سے ہے تاہم انہوں نے اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔

بورکینا فاسو کے وزیرداخلہ کا کہنا ہے کہ دارالحکومت ’’واگا ڈوگو‘‘ کے ایک ہوٹل میں دو الگ الگ حملے ہوئے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہوٹل کا نام اور حملے میں ہونے والے جانی نقصان کی تفصیلات جلد سامنے آجائیں گی۔

بعد ازاں انہوں نے بتایا کہ سبلانڈیڈ ہوٹل میں پولیس کی کارروائی میں 126 فراد کو نکال لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی کارروائی میں تین حملہ آور ہلاک کردیے گئے ہیں اور ان کا تعلق القاعدہ سے بتایا جاتا ہے۔

بورکینا فاسو کے ایک پولیس افسر نے بتایا کہ دہشت گردوں نے ہوٹل میں گھس کر اس کی بالائی منزلوں میں بارودی سرنگیں نصب کردی تھیں تاکہ ان کے خلاف آپریشن سست کیا جائے۔ پولیس افسر نے بتایا کہ ہوٹل میں دہشت گردوں کے نرغے میں پھنسے شہریوں کو نکالنے کے لیے انہیں امریکی اور فرانسیسی کمانڈوز کی بھی حمایت حاصل تھی۔

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن اب بھی جاری ہے مگر عمارت میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کے نتیجے میں انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔

القاعدہ نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی

بورکینا فاسوس کے دارالحکومت کے ہوٹل میں گذشتہ شب ہونے والی دہشت گردی کی کارروائی کی ذمہ داری مغرب الاسلامی کی القاعدہ نے قبول کی ہے۔

شدت پسندوں کی سرگرمیوں کو مانیٹر کرنے والے ویب پورٹل’’سائیٹ‘‘ کے مطابق القاعدہ نے واگاڈوگو کے ’’سبلانڈیڈ‘‘ ہوٹل میں حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔مغرب اسلامی میں القاعدہ کی شاخ کی جانب سے انٹرنیٹ پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے ہوٹل میں مغربی باشندوں کو نشانہ بنایا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق واگاڈوگو کے وسط میں واقع ہوٹل میں دہشت گردوں کے حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی تھی اور ہوٹل کے اندر سے آہ و بکاء کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔

واگاڈوگو کے ایک پولیس عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے شرط پر بتایا کہ مشتبہ دہشت گردوں نے دارالحکومت کے ایک ہوٹل اور کسینوں میں گھس کر کئی افراد کو یرغمال بنایا ہے۔ بعد ازاں پولیس کی فوری کارروائی کے نتیجے میں دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے 33 افراد کو بازیاب کرالیا گیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہوٹل میں دہشت گردوں کے داخلے کے وقت جائے وقوعہ کے قریب ہی پولیس کی دو چھوٹی گاڑیاں بھی کھڑی تھیں۔ دہشت گردوں اور پولیس کے درمیان فائرنگ کا بھی تبادلہ ہوا۔بارکینا فاسو میں قائم فرانسیسی سفارت خانے نے واقعے کو دہشت گردی کی کارروائی قرار دیا ہے۔