.

داعش کے بینک پر بمباری کی وڈیو جاری، کروڑوں جل کر راکھ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محکمہ دفاع #پینٹاگون کی جانب سے جمعہ کے روز ایک وڈیو جاری کی گئی ہے۔ یہ وڈیو #عراق کے شہر #موصل میں #داعش تنظیم کے زیرنگرانی "مرکزی بینک" یا "بیت المال" پر امریکی طیاروں کی بمباری کی ہے۔ گزشتہ پیر کے روز ہونے والی اس کارروائی کے نتیجے میں بینک میں موجود کروڑوں کی مالیت کی کرنسی جل کر راکھ ہوگئی جس میں امریکی ڈالر کے علاوہ عراقی دینار، یورو، سوئس فرینک اور دیگر غیر ملکی کرنسیاں شامل ہیں۔ بمباری میں تنظیم کے 7 مسلح ارکان ہلاک ہوگئے جن میں بینک کا ذمہ دار اوس عبد عباس بھی شامل ہے جب کہ 7 دیگر ارکان کے زخمی ہونے کے ساتھ ساتھ داعش کے دیگر 9 مراکز بھی تباہ ہوگئے۔

حملے کا نشانہ بیت المال تھا، جہاں شام اور عراق سے تیل کی اسمگلنگ، چورہ شدی سامان اور ٹیکسوں کے ذریعے تنظیم کو حاصل ہونے والی رقوم کو رکھا گیا تھا۔ ان رقوم کے ہی ذریعے تنظیم مسلح ارکان کو تنخواہوں کی ادائیگی کرتی تھی اور ساتھ ہی دیگر اخراجات بھی پورے کیے جاتے تھے۔ داعش کی جانب سے حملے کے بعد ایک وڈیو جاری کی گئی جس میں عمارت کے اندر کی بربادی دکھائی گئی تھی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ جس میں ہم نے امریکی طیاروں کی جانب سے براہ راست عمارت کو بمباری کا نشانہ بناتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس کی وڈیو اب العربیہ ڈاٹ نیٹ پر پیش کی گئی ہے، جس میں "مرکزی بینک" میزائلوں کے دھوئیں میں چھپا نظر آرہا ہے۔

داعش تنظیم نے 2014 میں موصل پر قبضہ کرلیا تھا۔ تنظیم بنیادی طور پر ان ہی رقوم پر انحصار کرتی تھی جن کو شدید پہرے کی عمارت میں محفوظ کیا گیا تھا، اور وہ اس کو اپنی واحد پونجی شمار کرتی تھی۔ اسی وجہ سے بیت المال پر بمباری کے دو روز بعد ہی تنظیم کی جانب سے مال جمع کرنے کی ضرورت سے متعلق فتوی موصل کے شہریوں میں تقسیم کردیا گیا تھا۔ ذرائع کے موصل کے "والی" کی جانب سے جاری فتوے میں کہا گیا ہے کہ بیت المال کو پہنچنے والے نقصان کو پورا کرنے کے لیے تنظیم کے عناصر کی جانب سے نینویٰ صوبے کے لوگوں سے (ٹیکسوں اور روئیلٹی کی شکل میں) رقوم کا جمع کرنا جائز ہے۔