.

شام میں بھارتی شہریوں کی گرفتاریوں کا انکشاف

شامی وزیرخارجہ کا دورہ بھارت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#شام کے وزیرخارجہ # ولید_المعلم نے دورہ #بھارت کے دوران ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ شامی سیکیورٹی فورسز نے پچھلے کچھ عرصے میں شام میں کئی بھارتی شہریوں کو بھی حراست میں لیا ہے۔ حراست میں لیے گئے تمام افراد مبینہ طور پرشدت پسند تنظیم دولت اسلامی ’’#داعش‘‘ کی صفوں میں شمولیت اختیار کرنا چاہتے تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شامی وزیرخارجہ ولید المعلم نے ان خیالات کا اظہار نئی دہلی میں اپنی بھارتی ہم منصب #سشما_سوراج سے ملاقات کے بعد ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ تاہم انہوں نے اس امر کی کوئی وضاحت نہیں کی کہ آیا شام میں بھارتی شہریوں کی گرفتاریاں کب کی گئی تھیں، ان کی کل تعداد کیا ہے اور نہ یہ بتایا کہ شام نے کس مقصد کے تحت یہ خبر آج تک چھپائے رکھی ہے۔ ماضی میں غیرملکی شہریوں کی گرفتاریوں سے متعلق کسی بھی خبر کو فوری طور پر ذرائع ابلاغ کو جاری کردیا جاتا رہا ہے۔ ایک صحافی کے سوال پر ولید المعلم نے صرف اتنا بتایا شام میں گرفتار کیے گئے بھارتی شہری اردن کے راستے سے داخل ہوئے تھے۔

خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق بھارتی حکومت کچھ عرصہ پیشترعراق میں دولت اسلامی ’’داعش‘‘ کہلوانے والے سخت گروپ کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے اپنے شہریوں کے ایک گروپ کی تلاش میں ہے۔ انہیں داعش نے سنہ 2014ء میں عراق میں یرغمال بنالیا تھا۔ بعد ازاں یہ خبر بھی سامنے آئی تھی کہ عراق سے یرغما بنائے گئے شہریوں کو شام منتقل کردیا گیا ہے۔ بھارتی حکومت نے لاپتا ہونے والے اپنے 40 شہریوں کی ایک فہرست شامی رجیم کو بھی مہیا کی تھی جس میں لاپتا ہونے والے شہریوں کے بارے میں تفصیلات مہیا کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔

نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیرخارجہ سسشما سوراج نے کہا کہ ان کا ملک جنگ زدہ شام میں طبی امداد سمیت دیگر شعبوں میں معاونت جاری رکھے گا۔ انہوں نے دیگر شعبوں میں معاونت کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

خیال رہے کہ شام میں جاری بغاوت کی تحریک کے دوران صدر #بشار_الاسد کی حکومت انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی وجہ پوری دنیا میں کڑی تنقید کی زد میں ہے مگر بھارتی حکومت کی جانب سے اسد رجیم کے وزیرخارجہ کو دورے کے دعوت دے کر شامی عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔