.

مغرب شام کے انسانی بحران پر سیاست چمکا رہا ہے: روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#روس نے #اقوام_متحدہ کی #سلامتی_کونسل کی جانب سے #شام میں زیر محاصرہ شہروں پر میٹنگ کے مطالبے کو انسانی بحران کو سیاسی بنانے کی ایک غیر ضروری آواز اور 25 جنوری کو ہونے والے شامی امن مذاکرات کے خلاف خطرہ قرار دیا ہے۔

روس کے اقوام متحدہ میں نائب سفیر ولادیمیر سافرونکوو نے #برطانیہ، #فرانس اور #امریکا کی جانب سے اس میٹنگ کے مطالبے کے محرکات پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے ان ممالک پر دوغلی پالیسی رکھنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ "ان ممالک کو مضایا پر سرکاری فوج کے محاصرے پر بہت دکھ ہے مگر انہیں باغیوں کے محاصرے میں موجود کوئی علاقہ دکھائی نہیں دیتا۔"

سافرونکوو کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل میں اس بحث کے انعقاد پر اتنے اصرار سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جنیوا میں 25 جنوری کو ہونے والے شامی امن مذاکرات کی کوشش کو کمزور کرنے کی سازشیں ہورہی ہیں۔

سافرونکوو کا کہنا تھا "جیسے جیسے مذاکرات کے آغاز کا وقت قریب آرہا ہے ویسے ہی غیر ضروری آوازیں بڑھتی جارہی ہیں۔"

تین مغربی طاقتوں امریکا، فرانس اور برطانیہ نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ شامی فریقوں پر محاصرے اٹھانے کے لئے زور ڈالے اور اس کو اپنے ایجنڈے میں شامل کرے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کا کہنا ہے کہ شامی حکومت اور باغی دونوں شہریوں کو بھوکا رکھ کر جنگی جرائم کے مرتکب ہورہے ہیں۔

برطانوی نائب سفیر پیٹر ولسن کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی کونسل تمام فریقوں سے محاصرے اٹھانے کا مطالبہ کرے مگر انہوں نے زور دیا کہ "شام کے شہریوں کی حفاظت کی بنیادی ذمہ داری شامی حکومت پر عاید ہوتی ہے۔"

انہوں نے روس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ " اس ہولناک صورتحال کا حل تلاش کرنے کے لئے فضائیہ سے بمباری کی بجائے شامی حکومت کے ساتھ تعلقات رکھنے والے کونسل کے ممبران کو اپنا اثرو رسوخ استعمال کرنے دیا جائے۔"

کونسل سے خطاب کرتے ہوئے شام کے نائب سفیر منذر منذر نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ان کی حکومت بھوک کو جنگی حکمت عملی کے لئے استعمال نہیں کررہی ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی جانب سے شامی حکومت پر لگائے جانے والے الزامات کی تردید کی ہے جن کے مطابق شامی حکومت شہریوں تک امداد پہنچانے کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امداد پہنچنے میں رکاوٹ صرف امدادی ورکرز کی سیکیورٹی اور امداد کے غلط ہاتھوں مِیں پہنچنے سے روکنے کی وجہ سے ہے۔