.

موسی الصدر کو خمینی نے روپوش کرایا تھا: امریکی مصنف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نشر و اشاعت کے عالمی اداروں، کتب خانوں اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کو ایرانی انقلاب کے بارے میں امریکا میں ایک نئی کتاب کے اجرا کا انتظار ہے۔ اس کتاب میں پہلی مرتبہ 1978 سے روپوش ہوجانے والے موسی الصدر کے بارے میں نئی معلومات کا انکشاف کیا گیا ہے۔ غالب گمان یہ ہے کہ لیبیا کے معزول سابق سربراہ معمر قذافی ان کے قتل میں ملوث رہے۔ تاہم عنقریب منظر عام پر آنے والی کتاب میں یہ بتایا گیا ہے کہ موسی الصدر جو ایران میں ملائیت کے انقلاب کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن رہے تھے، ان کو غائب کرانے میں آیت اللہ #خمینی کا ہاتھ تھا۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے کتاب کے خلاصے میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے حکمراں شاہ محمد #رضا_پہلوی کی جانب سے #موسی_الصدر کے ساتھ خفیہ رابطے جاری تھے۔ اور وہ آخر الذکر کی ایران واپسی چاہتے تھے تاکہ خمینی کی اقتدار تک پہنچنے کی کوششوں کو ناکام بنایا جاسکے۔ یہ 1978ء میں شاہ کی حکومت ختم ہونے سے چند ماہ پہلے کا ذکر ہے۔

کتاب کا نام (The Fall of Heaven: The Pahlavis and the Final Days of Imperial Iran) ہے۔ اس میں اس جانب اشارہ کیا گیا ہے کہ خمینی ہی تھے جنہوں نے موسی الصدر سے خلاصی حاصل کی اور اس سے چھٹکارہ حاصل کرنا #ایران میں شیعہ انقلاب کی کامیابی کی ایک اہم وجہ تھی۔ موسی الصدر نے جو لبنان میں ایک نمایاں ترین مذہبی رہ نما اور " امل " تحریک کے بانی بھی تھے، اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ لیبیا کا دورہ کیا۔ وہاں معمر قذافی سے ملاقات کے بعد وہ آخری مرتبہ 31 اگست 1978 کو طرابلس کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر دیکھے گئے مگر وہ لبنان واپس نہیں لوٹے اور نہ ہی کسی اور ملک پہنچے۔ دوسری جانب قذافی حکومت کا کہنا تھا کہ وہ لیبیا سے روانہ ہوگئے تھے اور حکومت کے پاس ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے۔ تاہم خیال یہ ہی کیا جاتا ہے کہ لیبیا کی حکومت نے کسی وجہ سے ان افراد کو ٹھکانے لگایا ہے۔

کتاب کے مطابق مصنف کولومبیا یونی ورسٹی کے پروفیسر "اینڈریو کووپر" مشرق وسطیٰ کے امور کے ایک اہم ترین ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے کتاب میں بتایا ہے کہ موسی الصدر ایرانی شاہ کے خلاف نہیں تھے جیسا کہ مشہور ہے، بلکہ وہ تو شاہ کے ساتھ خفیہ رابطوں میں تھے۔ اور ایسا نظر آتا ہے کہ اسی چیز نے خمینی کو الصدر سے خلاصی حاصل کرنے پر مجبور کیا تاکہ شاہ ایران کے سامنے انقلاب سے نجات کا کوئی طوق باقی نہ رہے۔ مصنف کا مزید کہنا ہے کہ "میرے نزدیک موسی الصدر ایران میں شیعیت اور جدیدیت کی مشترکہ بقاء کے لیے بڑی امید تھے، تاہم ان کی روپوشی نے اس امکان کو سبوتاژ کرتے ہوئے ایران میں مسلح شیعہ بلاک کے سامنے راستہ کھول دیا"۔

امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز" نے ہی بوسٹن یونی ورسٹی کے پروفیسر رچرڈ نورٹن (جو لبنان میں اقوام متحدہ کے مبصر کے طور پر کام کرچکے ہیں) کے حوالے سے بتایا ہے کہ " ہم الصدر کی روپوشی میں ایرانی کردار کے بارے میں سن چکے ہیں"... انہوں نے مزید کہا کہ "الصدر ایرانی شاہ کے ساتھ بڑی حد تک مانوس تھے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ان کو شاہ کی طرف سے رقوم ملتی تھیں"۔

کتاب میں فراہم کردہ معلومات کے مطابق کرنل معمر قذافی نے اگست 1978 میں موسی الصدر اور خمینی کے ایک سینئر معاون آیت اللہ محمد بہشتی کے درمیان ملاقات کرانے کی پیش کش کی تھی۔ اس کی بنیاد پر موسیٰ الصدر نے شیخ محمد یعقوب اور ایک صحافی عباس بدر الدین کے ہمراہ لیبیا کا سفر کیا۔ الصدر طرابلس میں ملاقات کے منتظر رہے پھر اس کے بعد 31 اگست کو روانگی کا فیصلہ کرلیا۔ اور یہ ہی وہ دن تھا جب ملاقات کے بغیر وہ منظر عام سے غائب ہوگئے۔