.

شامی شہروں کے محاصرے کے خلاف عالم گیر احتجاج جاری

’سولہ جنوری کو محصورین شام سے یکجہتی کا دن قرار دیا گیا‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں کئی سال سے سرکاری فوج،اس کے حامی اجرتی قاتلوں اور بشارالاسد نواز لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے جنگجوؤں کی جانب سے نہتے شہریوں کو بھوک اور ننگ میں مبتلا کرنے کے خلاف ملک گیر احتجاج جاری ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے کل 16 جنوری کو شام کے محصورین کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دن منایا۔ اس موقع پر ترکی، جرمنی، فرانس، آئرلینڈ، امریکا اور کینیڈا سمیت کئی عرب اور مغربی ممالک میں بڑے بڑے احتجاجی جلوس نکالے گئے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ آج اتوار کو بھی دنیا بھر میں جاری رہے گا۔ گذشتہ روز احتجاجی مظاہروں کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ہائی کمیشنز میں شام کے محصورین کی حمایت اور اسد رجیم اور اس کی حامی ملیشیاؤں کی مسلط کردہ ناکہ بندیوں کے خلاف احتجاجی یاداشتیں بھی پیش کی گئیں۔

عالمی سطح پر محصورین شام سے یکجہتی کے مظاہرے ایک ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب دو دن قبل عالمی سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھی شام کے شہروں کا محاصرہ ختم کرنے اور قحط کا شکار شہریوں تک فوری اور بلا تعطل امداد کی فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ سلامتی کونسل کے مطالبے کے بعد انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے اس مطالبے کو موثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے عالمی مہم کا آغاز کیا ہے اور سولہ جنوری کو محصورین شام کے ساتھ یکجہتی کا دن قرار دیا ہے۔

عالمی یوم الغضب میں شام میں جاری خانہ جنگی کے دوران عام شہریوں کو محصور کرنے اور انہیں بھوک و افلاس میں مبتلا کرنے کی ظالمانہ حکومتی پالیسی کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ محصورین شام کے ساتھ اظہار یکجہتی کی عالم گیر مہم سماجی تنظیموں اور انسانی حقوق کے گروپوں کے ساتھ ساتھ صحافی اور دیگر تمام شعبہ ہائے زندگی کے افراد بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔

گذشتہ روز نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں ’یو این‘ سیکرٹری جنرل بان کی مون کے سامنے بھی ایک یادداشت پیش کی گئی جس میں ان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسد رجیم اور لبنانی حزب اللہ کے مظالم کا شکار شامی شہریوں کو امدادی پہنچانے کے لیے موثر اقدامات کریں۔ مظاہرین نے سلامتی کونسل شامی حکومت کو سنہ 2014ء میں منظور کردہ قرارداد 2139 پرعمل درآمد یقینی بنانے کا مطالبہ کیا، جس میں شام میں جنگ سے متاثرہ تمام شہروں اور دیہات تک امدادی سرگرمیوں کی بحالی پر زور دیا گیا ہے۔

بان کی مون کے دفترمیں جمع کرائی گئی یادداشت میں کہا گیا ہے کہ شام میں صدر بشارالاسد اور ان کے حامی گروپ انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ شامی شہریوں کو تحفظ دلانے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ یاداشت میں شامی حکومت پر کڑی پابندیاں عاید کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ شام میں انسانی سرکاری فوج کے ہاتھوں بھیانک انداز میں انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں مگر عالمی سطح پر جنگی جرائم کو روکنے کا کوئی اشارہ تک نہیں دیا گیا اور نہ ہی سلامتی کونسل اسد رجیم پر پابندیاں عاید کر سکی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے شام میں محصورین تک امداد پہنچانے کے لیے درج ذیل اہم مطالبات پیش کیے ہیں۔

1۔۔۔ شامی فوج اور حزب اللہ کے محاصرے کے شکار تمام شہروں کو آزاد کرایا جائے۔

2۔ سلامتی کونسل سنہ 2014 میں شام میں امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے منظور کردہ قرارداد 2139 پرعمل درآمد یقینی بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ اگر شامی حکومت اس قرارداد پرعمل درآمد نہیں کرتی تو اس پر سنگین نوعیت کی پابندیاں عاید کی جائیں۔

3۔۔ شام میں نہتے شہریوں کو بھوک اور ننگ میں متبلا کرنے کی تمام ذمہ داری بشارالاسد کی حکومت پرعاید کرتے ہوئے معاملے کو بین الاقوامی فوج داری عدالت میں اٹھایا جائے۔

4۔۔۔ شام میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی تحقیقات اور اسدی فوج کے وحشیانہ جنگی جرائم کی شفاف تحقیقات کے لیے ایک بین الاقوامی کمیشن قائم کیا جائے جو فی الفور شام پہنچ کر اسد رجیم کے جرائم کے شواہد جمع کرے۔

5۔۔ شام کے جنگ زدہ تمام علاقوں میں محفوظ زون قائم کیے جائیں تاکہ ادویات اور خوراک کی ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔

6۔۔ محاصرے کا شکار شہروں کے گردو پیش میں شامی فوج کی جانب سے نصب کردہ باردوی سرنگیں ناکارہ بنائی جائیں تاکہ متاثرین کو متبادل مقامات تک پہنچنے کاموقع فراہم کیا جا سکے۔ شہری نقل مکانی کرنا چاہیں توانہیں محفوظ راستے دیے جائیں اوران پر بمباری اور گرفتاریوں سے بچایا جائے۔