.

شامی محصورین پرقحط مسلط کرنے میں اقوام متحدہ شریک؟

’یو این‘ عہدیداروں کا طرزعمل اسد رجیم کی چاپلوسی کا مظہر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں غذائی قلت کے سنگین بحران سے نمٹںے کی عالمی مساعی کے جلو میں انکشاف ہوا ہے کہ اقوام متحدہ نے شام میں بھوک سے پیدا ہونے والے انسانی المیے کا علم ہونے کے باوجود کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا جس کے نتیجے میں مضایا اور دیگر شہروں میں محصور ہزاروں افراد کو بروقت امداد مہیا نہ کی جاسکی۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق دمشق میں قائم اقوام متحدہ کے رابطہ دفترسے لیک ہونے والی ایک دستاویز میں چشم کشا انکشافات سامنےآئے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ دمشق کے نواحی علاقے مضایا میں محصور شہریوں کی بھوک اور ننگ کے بارے میں اقوام متحدہ کو کئی ماہ سے بہ خوبی علم تھا مگر عالمی ادارے نے بحران کے حل کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔

اقوام متحدہ کےرابطہ دفتر کی جانب سے جاری ہونے والی دستاویز جریدہ ’’فارن پالیسی‘‘ نے شائع کی ہیں۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ شام میں غذائی قلت کے شکار شامی شہریوں بالخصوص بچوں کی تصاویر کے منظرعام پرآنے کے بعد اقوام متحدہ کو علم ہوگیا تھا کہ مضایا میں ہزاروں افراد غذائی قلت کے نتیجے میں زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔

اخبار لکھتا ہے کہ مضایا میں غذائی قلت کے سنگین بحران کے بارے میں رپورٹس کئی ماہ قبل اقوام متحدہ کے دفاترکو ارسال کردی گئی تھیں مگرانہیں قصدا مخفی رکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق رواں ماہ چھ جنوری کو اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی حقوق ’’اوچا‘‘ نے ایک رپورٹ سامنے لانے کا پروگرام بنایا جس میں مضایا کے متاثرین کو فوری امداد پہنچانے کی ضرورت پرزور دیا گیا تھا مگر یہ رپورٹ بھی منظر عام پرنہیں لائی گئی۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا اس رپورٹ کو دوبارہ داخل دفتر کیوں کردیا گیا۔

رپورٹ میں اقوام متحدہ کی مضایا کے محصورین کے حوالے سے دانستہ لاپرواہی کے مختلف اسباب ومحرکات بیان کیے گئے ہیں۔ ایک اہم محرک امدادی اداروں کی جانب سے اقوام متحدہ پرشامی رجیم سے تعلقات کی وجہ سے قحط کے شکار لوگوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پرحل کرنے میں سُستی کا مظاہرہ کرنے کا الزام بھی تھا۔ اقوام متحدہ نے محصورین کے مسائل کے حل پرتوجہ دینے کے بجائے شامی رجیم سے تعلقات پرتوجہ مرکوز کیے رکھی۔ صرف یہی نہیں کہ اقوام متحدہ نے محصورین اور قحط زدگان کے مسائل پرتوجہ نہ دی بلکہ مضایا کے باشندوں پربھوک کا عذاب مسلط کرنے والے اسدی فوجیوں اور ان کی حامی حزب اللہ ملیشیا کو قصور وار قرار دینے کا اشارہ تک نہیں کیا۔

’’فارن پالیسی میگزین‘‘ کی رپورٹ کے مطابق شام میں امدادی اداروں کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی لاپرواہی سے ’یو این‘ کی اسد رجیم کی چاپلوسی ثابت ہوتی ہے۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی رو سے اقوام متحدہ کے لیے مضایا کے متاثرین تک امداد فراہم کرنے کے لیے شامی حکومت سے اجازت لینا ضروری نہیں تھی۔ اگر دمشق سرکار اس کی اجازت نہ بھی دیتی تب بھی اقوام متحدہ از خود کارروائی کرکے اپنا فرض ادا کرتی۔

امدادی کارکنوں کی جانب سے اقوام متحدہ کے سینیر حکام کو مکتوب ارسال کیا ہے جس میں الزام عاید کیا گیا ہے کہ دمشق میں اقوام متحدہ کے عہدیداروں کے یا تو شامی حکومت کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے یا وہ اپنے ویزے منسوخ ہونےسے خوف زدہ تھے۔ یہی وجہ ہے وہ جانتے بوجھتے مضایا کے بحران سے لاپرواہی کامظاہرہ کرتے رہے۔