.

صدر اوباما بدستور ایران کی اسرائیل کو دھمکی کے مخالف

عالمی طاقتوں نے ایران کے جوہری بم حاصل کرنے کے ہر راستے کو بند کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے ایران کے ساتھ طے شدہ جوہری معاہدے کے مکمل نفاذ کو سراہا ہے مگر ساتھ ہی کہا ہے کہ وہ اب بھی اسرائیل اور خطے کے دوسرے ممالک کے لیے ایران کی دھمکی کے سخت خلاف ہیں۔

صدر اوباما نے وائٹ ہاؤس سے اتوار کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''عالمی طاقتوں نے ایران کے جوہری بم حاصل کرنے کے ہر راستے کو بند کردیا ہے اور قیدیوں کے تبادلے سے ظاہر ہو گیا ہے کہ سفارت کاری سے کیا کچھ ممکن ہے''۔

انھوں نے کہا: ''آج ایک اچھا دن ہے اور ہم دیکھ رہے کہ مضبوط امریکی سفارت کاری سے کیا کچھ ممکن ہوا ہے۔یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جب ہم مضبوطی اور عقل ودانش کے ساتھ آگے بڑھیں تو کیا کچھ حاصل کرسکتے ہیں''۔

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ ''امریکا کے اب بھی ایران کے ساتھ شدید اختلافات پائے جاتے ہیں اور وہ اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر پابندیوں کے نفاذ کا سلسلہ جاری رکھے گا''۔انھوں نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ ''ایران باقی دنیا کے ساتھ اب زیادہ تعاون کا معاملہ کرے گا''۔

درایں اثناء امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ امریکا ایران کو قرضے کی مد میں چالیس کروڑ ڈالرز اور انقلاب کے وقت سے اب تک واجب الادا سود کی مد میں ایک ارب تیس کروڑ ڈالرز ادا کرے گا۔یہ رقم ان اربوں ڈالرز کے علاوہ ہے جو ایران کو جوہری معاہدے پر مکمل درآمد کی صورت میں غیرملکی اثاثے غیرمنجمد ہونے کے بعد ملنے والے ہیں۔امریکا ایک بین الاقوامی ٹرائبیونل کے فیصلے کے تحت ایران کو یہ رقم دینے کا پابند ہے۔