.

''جوہری ڈیل:اسرائیل، امریکی انتہا پسندوں کے سوا سب خوش''

مذاکرات کرنے والے دھڑوں میں سے کسی کی شکست نہیں ہوئی: حسن روحانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے پر عمل درآمد سے انتہا پسندوں، جنگ پسندوں اور صہیونیوں کے سوا تمام خوش اور مطمئن ہیں۔

انھوں نے ایران پر عاید پابندیوں کے خاتمے کے بعد تہران میں اتوار کو پارلیمان میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ '' معاہدے پر عمل درآمد سے صہیونیوں ،جنگ کی آگ بھڑکانے ،اسلامی اقوام کے درمیان اختلافات کے بیج بونے والوں اور امریکا کے انتہا پسندوں کے سوا سب خوش ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''اس ڈیل سے ایران کے دنیا کے ساتھ تعلق و روابط کے نئے دروازے کھل گئے ہیں۔یہ ڈیل مذاکرات کرنے والے تمام فریقوں اور ایران کے تمام دھڑوں کی فتح تھی۔اس سے ایران کے اندر یا ہمارے ساتھ مذاکرات کرنے والے دھڑوں میں سے کسی کی کوئی شکست نہیں ہوئی ہے''۔وہ امریکا ،برطانیہ ،فرانس ،روس ،چین اور جرمنی کے ساتھ مذاکرات کا حوالہ دے رہے تھے۔

صدر روحانی کا کہنا تھا کہ ''ایران کو اب پابندیوں کے خاتمے کے نتیجے میں متوقع ملنے والی رقوم سے ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ روزگار کے موقع پیدا کرنے اور ایرانی شہریوں کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے اقدامات پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے کیونکہ ایران کو برسوں سے دُہرے ہندسے کے افراط زر اور بے روزگاری کی شرح کا سامنا رہا ہے''۔

اسمارٹ سفارت کاری کی فتح

امریکی صدر براک اوباما نے ایران میں قید امریکی شہریوں کی رہائی اور تہران کے ساتھ طے شدہ جوہری معاہدے کے مکمل نفاذ کو سراہا ہے اور ان دونوں کو اسمارٹ سفارت کاری اور امریکا کے دشمنوں کے ساتھ براہ راست معاملہ کاری کے لیے اپنے عزم کی فتح قرار دیا ہے۔

انھوں نے وائٹ ہاؤس سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ '' یہ ایک اچھا دن ہے جب امریکی رہا ہوکر اپنے خاندانوں کے پاس لوٹ آئے ہیں اور ہم اس کی خوشیاں منا سکتے ہیں''۔

درایں اثناء اوباما انتظامیہ نے اتوار کو ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے وابستہ گیارہ افراد اور اداروں پر نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔صدر اوباما نے اپنے بیان میں کہا کہ ''ہم ان پابندیوں ک؛ے بھرپور طریقے سے نفاذ کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور اس معاملے میں چوکس رہیں گے''۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے بھی ایران اور امریکا کے درمیان قیدیوں کے تبادلے اور تہران پر عاید عالمی پابندیوں کے خاتمے کو سراہا ہے۔انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ اب دونوں ملکوں کو محفوظ مستقبل کی تلاش کے لیے دوسرے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے لیے آپس میں باہمی تعاون کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جولائی 2015ء میں طے شدہ معاہدے پر ہفتے سے مکمل عمل درآمد کا آغاز ہوا ہے۔اس کے تحت ایران پر عاید اقتصادی پابندیاں ختم کردی گئی ہیں اور اس کے بیرون ممالک میں اثاثے غیر منجمد کردیے گئے ہیں۔اس کے نتیجے میں ایران کو تیس ارب ڈالرز سے زیادہ مالیت کے اثاثے فوری طور پر مل جائیں گے۔ایران کی سرکاری رپورٹس کے مطابق اس کے غیرمنجمد کیے جانے والے غیرملکی اثاثوں کی مالیت ایک سو ڈالرز کے لگ بھگ بنتی ہے۔