.

اسمگلنگ کے ایرانی نیٹ ورک کا امریکی تعاقب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے لیے مدد فراہم کرنے والے اداروں اور افراد پر عائد کی جانے والی امریکی پابندیوں نے ثابت کردیا ہے کہ امریکی صدر باراک اوباما کی انتظامیہ "امور کو باریک بینی سے علیحدہ کرنے" پر کام کررہی ہے، اور ہر معاملے کو الگ سے ڈیل کرہی ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے وقت کی ترتیب پر اس کا کافی زور ہے۔

اتوار کے روز امریکی یرغمالیوں کے ایرانی حدود سے نکل آنے کے بعد اور نیوکلیئر پروگرام سے متعلق پابندیاں اٹھا لیے جانے کے بعد، امریکی وزارت خزانہ نے 11 افراد اور اداروں پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کردیا۔

پابندی کی زد میں آنے والے اداروں میں "مبروکہ ٹریڈنگ" کمپنی شامل ہے۔ اس کا صدر دفتر متحدہ عرب امارات میں ہے اور اس کی سرگرمیاں چین میں بھی جاری ہیں۔ امریکی حکومت نے کمپنی پر میزائل پروگرام کے لیے لوازمات فراہم کرنے کا الزام عائد کیا ہے جس میں کسی تیسرے ملک کی کمپنیوں کے ذریعے "حساس مواد" کی فراہمی شامل ہے۔ اور کمپنی کی ذمہ داریوں میں ان لوازمات کے غیرملکی تیار کنندگان کی غلط رہ نمائی کرنا بھی ہے۔

وزارت خزانہ نے پانچ افراد پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔ ان میں سرفہرست "مبروکہ ٹریڈنگ" کے مالک "حسین پور نقشبند" ہیں۔ امریکی وزارت خزانہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حسین نے ایرانی کمپنی "نوید"کو مالی اور تکنیکی سپورٹ، سہولیات اور "فائبر کاربن" کا لوازمہ فراہم کیے۔ مذکورہ کمپنی ایران کے میزائل پروگرام کو سپورٹ کرنے میں مصروف ہے۔

امریکی وزارت خزانہ نے ایک چینی شخص "مینگ فو شِن" اور ہانگ کانگ میں قائم اس کی کمپنی پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔ اس کے علاوہ رحيم رضا فرغدانی اور متحدہ عرب امارات میں اس کی کمپنی "کینڈڈ جنرل ٹریڈنگ" بھی پابندی کی زد میں آئے ہیں۔ الزام وہ ہی ہے یعنی کہ ایرانی میزائل پروگرام کو لوازمات، سپورٹ اور معاونت کی فراہمی۔

نیٹ ورک اور کمپنیاں

سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ تمام تر لوازمات ان دونوں کمپنیوں کے پاس سے مبروکہ کمپنی کے ذریعے ایرانی کمپنی "نوید" تک پہنچتے ہیں۔ اس طرح ایک بین الاقوامی ایرانی نیٹ ورک کا پیچیدہ نقشہ سامنے آتا ہے، جو نگرانی کی کارروائیوں کو گمراہ کرنے پر کام کررہا ہے۔ اور ساتھ ہی ایسے ممنوعہ لوازمات کی درآمد بھی کررہا ہے جس کا حصول بین الاقوامی قراردادوں کے تحت ایران کے لیے منع ہے۔ ان میں قرارداد نمبر 1929 بھی ہے جو ایران کو میزائل ٹکنالوجی کے حصول سے روکتی ہے۔

دنیا بھر میں اس طرح کی درجنوں کمپنیاں ہیں جن پر پابندیاں عائد کی جاتی رہی ہیں۔ امریکی انتظامیہ اس شک کا بھی اظہار کرتی ہے کہ ان کے علاوہ بھی درجنوں کمپنیاں ابھی تک کام کررہی ہیں اور امریکی وزارت خزانہ ان کمپنیوں کی سرگرمیوں کی تصدیق اور یہ ثابت ہوجانے کے بعد کہ وہ واقعتا میزائل پروگرام کو سپورٹ کررہی ہیں، ان کے خلاف کارروائی کا ارادہ رکھتی ہے۔

​ایرانی اہل کاروں پر پابندیاں

اس نیٹ ورک کے علاوہ، امریکی وزارت خزانہ نے ایرانی حکومت کے کام کرنے والے ایرانی باشندوں پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔ ان میں سرفہرست "سید جواد موسوی" ہے جو ایرانی خلائی صنعت سے متعلق ایک کمپنی کی ذیلی کمپنی کے لیے کام کرتا ہے۔ یہ کمپنی اپنے طور پر ایرانی مسلح افواج کی ملکیت میں ہے۔ جواد موسوی نے میزائل تجربات میں استعمال ہونے والے پرزہ جات کی درآمد کے لیے شمالی کوریا کی حکومت کے ساتھ کام بھی کیا تھا۔

موسوی کے علاوہ اس کمپنی کے سربراہ پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں جس میں موسوی کام کرتا ہے۔ اور اس شخصیت کا نام "سید میر احمد نوشین" ہے۔ وہ "شہيد حمّت انڈسٹریل گروپ" کا ڈائریکٹر بھی ہے۔ ان کے علاوہ ایرانی وزارت دفاع میں لوجسٹک سیکشن کے نائب سربراہ "سيد مہدي فرحی"، اور ان کے ایک ساتھی "سيد محمد هاشمی" بھی شامل ہیں۔ پابندیوں کی فہرست میں بتایا گیا ہے کہ "فرحی اور نوشین نے 80 ٹن وزنی راکٹ انجن کی پیش رفت میں اہم کردار ادا کیا اور مذاکرات کے دوران دونوں نے پیونگ یانگ (شمالی کوریا) کا سفر بھی کیا"۔

پابندیوں میں ایک اور ایرانی اہل کار "مرتضى اخلاغی قطبشی" کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ امریکی وزارت خزانہ نے 2008 میں قطبشی کی اسی نوعیت کی سرگرمیوں کے سبب عتاب کا نشانہ بنایا ہے۔

یہ بات بڑی حد تک ثابت ہوچکی ہے کہ ایرانی اہل کاروں نے خود پر عائد پابندیوں کے باوجود، اپنی سرگرمیوں کا سلسلہ نہیں روکا۔ عائد کی جانے والی پابندیاں خاص طور پر امریکیوں کو ان افراد کے ساتھ ڈیل کرنے سے روکتی ہیں اور ایسا کبھی کبھار ہوتا ہے ... جب کہ پابندیوں کے تحت امریکی بینکوں اور امریکی اداروں کے قبضے میں موجود ان افراد کے مالی اثاثے منجمد کیے جاتے ہیں، اور ایسا بھی شاذو نادر ہی ہوتا ہے۔