.

سابق اسرائیلی وزیر اعظم کو جیل سے خوف کیوں آنے لگا؟

اولمرٹ نے رشوت کے مقدمے میں ڈیل کر لی، سزا معاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کرپشن کے الزامات میں گرفتار سابق اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے ابھی جیل کاٹنا شروع بھی نہ کی تھی کہ انہوں نے پراسیکیوشن سے ڈیل کر لی ہے تاکہ وہ جیل یاترا کی ایک اور سزا سے بچ سکیں۔

اسرائیل کے ایک مقامی ریڈیو کے مطابق اولمرٹ کے وکلاء ان کے کہنے پر پراسیکیوٹر جنرل سے ڈیل کر لی ہے۔ پراسیکیوٹر جنرل اولمرٹ پر رشوت دینے کی کوشش کا مقدمہ چلا رہے تھے۔

اطلاعات کے مطابق اولمرٹ نے اپنی سابقہ سکریٹری شولا زاکن پر دبائو ڈالا تھا کہ وہ ان کے خلاف کرپشن کیس میں گواہی نہ دیں اور انہیں خاموشی کے بدلے پیسے دینے کی پیشکش کی تھی۔ زاکن نے ان کی اس کوشش کی خفیہ ریکارڈنگ کر لی تھی۔

ریڈیو کے مطابق پراسیکیوٹر نے پیر کے روز فیصلہ کیا تھا کہ اولمرٹ کرپشن کے الزام میں ملنے والی 18 ماہ کی قید کے ساتھ بیک وقت ہی رشوت دینے کی چھ ماہ کی قید بھی کاٹ لیں گے۔

اولمرٹ کو سنہ 2000ء کے قریب مقبوضہ بیت المقدس میں رہائشی کمپلیکس کی تعمیر پر رشوت لینے کے دو علاحدہ الزامات پر مئی 2014ء میں چھ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ مگر دسمبر میں سپریم کورٹ نے ان کی قید کو 18 ماہ تک کم کردیا اور ایک الزام میں بری کردیا۔

اولمرٹ کی یہ سزا 15 فروری سے شروع ہوگی۔ مگر اولمرٹ کو منگل کے روز ایک اور کیس کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہونا ہے۔