.

شام: اقوام متحدہ کی جانب سے جنیوا مذاکرات کیلئے دعوت دینے کا سلسلہ موقوف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ نے بڑی عالمی طاقتوں پر زور دیا ہے کہ وہ رواں ماہ کے آخر میں جنیوا میں امن مذاکرات کے لیے شامی اپوزیشن وفد کی تشکیل پر جلد اتفاق رائے قائم کر لیں تاکہ بات چیت کا آغاز تاخیر کا شکار نہ ہو۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے زیرنگرانی جنیوا میں شامی حکومت اور اپوزیشن کے وفود کی ملاقات کا سلسلہ 25 جنوری سے شروع ہونا طے پا چکا ہے۔

گزشتہ نومبر میں ویانا میں 17 ملکوں کی شرکت کے ساتھ طے پائے گئے روڈ میپ کے مطابق سیاسی عمل کا آغاز فائربندی پر اتفاق رائے کے ساتھ ہو گا اور پھر اس کے بعد عبوری حکومت کا قیام اور انتخابات کا انعقاد عمل میں لایا جائے گا۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق کا کہنا ہے کہ "اقوام متحدہ جنیوا مذاکرات کی (باقاعدہ) دعوت اس وقت دے گی جب ان مذاکرات کی قیادت کرنے والے ممالک اس حوالے سے متفق ہو جائیں گے کہ اپوزیشن کی نمائندگی کے لیے کس کو بلایا جائے"۔

فرحان حق نے اس بات کو دہرایا کہ اقوام متحدہ مذاکرات کے رواں ماہ 25 تاریخ کو شروع ہونے کو بہت اہمیت دے رہی ہے، تاہم انہوں نے اس سلسلے میں تاخیر کو خارج از امکان قرار نہیں دیا۔

ادھر اقوام متحدہ میں روسی سفیر ویتالی چورکین نے شامی اپوزیشن کے وفد کی تشکیل کے حوالے سے شدید اختلافات پائے جانے کا عندیہ دیا ہے۔

شام کے لیے اقوام متحدہ کے ثالثی اسٹیفن ڈی میستورا نے پیر کے روز ایک بند سیشن میں سلامتی کونسل کے ارکان کے سامنے جنیوا مذاکرات کی تیاری کے بارے میں پریزنٹیشن پیش کی۔ ڈی میستورا نے امید ظاہر کی کہ شام میں تنازع کے دونوں فریق "جذبہ خیر سگالی کے اقدامات" کے تحت متعدد قصبوں کا محاصرہ ختم کر دیں گے۔