.

فیس بک پر غیرملکیوں سے نفرت کے خلاف مہم کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

معروف ویب سائٹ فیس بک نے پورے یورپ میں سوشل میڈیا پر نسل پرستی سے متعلق (انتہا پسند) پیغامات کی نگرانی اور ان کو حذف کرنے کے مقصد سے ایک مہم کا آغاز کیا ہے۔ یہ اقدام غیرملکیوں بالخصوص مہاجرین اور پناہ گزینوں سے نفرت کے اظہار پر مبنی تبصروں میں اضافے کے بعد کیا گیا ہے۔

فیس بک گروپ نے جس کا صدر دفتر امریکا میں واقع ہے، اس مہم کا آغاز جرمنی کے دارالحکومت برلن سے کیا ہے۔ "Initiative for Civil Courage Online" کے نام سے شروع کی جانے والی اس مہم کے سلسلے میں فیس بک گروپ کا کہنا ہے کہ نسلی تعصب اور غیرملکیوں سے نفرت پر مبنی پیغامات کے خاتمے کے لیے غیرسرکاری تنظیموں کی کوششوں کو سپورٹ کرنے کے لیے 10 لاکھ یورو (تقریبا 11 لاکھ ڈالر) سے زیادہ کی رقم فراہم کی جائے گی۔

اس موقع پر فیس بک کے چیف آپریٹنگ آفیسر شیرل سینڈبرگ کا کہنا تھا کہ "نفرت آمیز پیغامات کی ہمارے معاشرے میں کوئی گنجائش نہیں، جس میں انٹرنیٹ بھی شامل ہے"۔

گزشتہ نومبر میں ہیمبرگ میں پراسیکیوٹرز نے فیس بک گروپ کے بارے میں اس اندیشے تحت تحقیقات شروع کی تھیں کہ گروپ نفرت آمیز پیغامات کو روکنے کے لیے مطلوبہ اقدامات نہیں کررہا ہے۔

اس دوران جرمنی کی سیاسی اور دیگر نمایاں شخصیات نے فیس بک اور دوسری سوشل ویب سائٹوں پر غیرملکیوں کی عداوت پر مبنی تبصروں میں اضافے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جب کہ جرمنی اپنے یہاں نئے مہاجرین کے انسانی سمندر کی گنجائش پیدا کرنے کی جہد مسلسل میں مصروف ہے، جہاں صرف گزشتہ سال ہی ان کی تعداد 11 لاکھ سے تجاوز کر گئی تھی۔