.

لیبیا کی قومی اتحاد کی حکومت میں شامل 32 وزراء کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں خانہ جنگی کے خاتمے اور قیام امن کے لیے اقوام متحدہ کی ثالثی میں طے پائے معاہدے کے تحت منگل کے روز متحارب دھڑوں پر مشتمل قومی اتحاد کی حکومت کا اعلان کردیا گیا ہے۔اس کابینہ میں بتیس وزراء شامل کیے گئے ہیں۔

تیونس میں ثالثی معاہدے کے تحت نوقائم شدہ صدارتی کونسل نے قبل ازیں وزراء کے ناموں کے اعلان کے لیے اڑتالیس گھںٹے کی ڈیڈلائن واپس لے لی تھی اور یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ مختلف دھڑوں کے درمیان وزارتوں کی تقسیم پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے لیبیا کے لیے خصوصی ایلچی مارٹن کوبلر نے ٹویٹر پر ایک پیغام میں لیبی عوام اور صدارتی کونسل کو قومی اتحاد کی حکومت کی تشکیل پر مبارک باد دی ہے۔انھوں نے لیبیا کی دونوں متحارب پارلیمانوں پر زوردیا ہے کہ وہ قومی اتحاد کی حکومت کی توثیق کردیں۔

واضح رہے کہ ان پارلیمانوں کے قریباً نصف ارکان قومی اتحاد کی حکومت کے لیے ڈیل پر دستخط کرچکے ہیں۔ان دونوں پارلیمانوں کے ارکان اور سیاسی شخصیات نے گذشتہ ماہ مراکش میں جنگ زدہ ملک میں قومی اتحاد کی واحد حکومت کی تشکیل کے لیے سمجھوتے پر دستخط کیے تھے۔

اقوام متحدہ کے ایلچی مارٹن کوبلر کی ثالثی میں مذاکرات کے متعدد ادوار کے بعد اس سمجھوتے پر اتفاق ہوا تھا۔اس کے بارے میں عالمی طاقتوں کا کہنا ہے کہ اس سے خانہ جنگی کا شکار ملک میں استحکام لانے اور داعش کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روکنے میں مدد ملے گی۔

تاہم طرابلس اور طبرق میں قائم پارلیمانوں کے سربراہوں نے اقوام متحدہ کی ثالثی میں طے پائے اس سمجھوتے کی مخالفت کی تھی اور انھوں نے خبردار کیا تھا کہ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور جو سیاست دان اس پر دستخط کررہے ہیں،وہ ذاتی حیثیت میں ایسا کررہے ہیں۔ان دونوں سربراہوں نے اس کے بجائے تیونس میں دسمبر میں ایک اور متبادل معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

لیبیا میں 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر کرنل معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے۔اس وقت ملک میں دو متوازی حکومتیں اور پارلیمان کام کررہی ہیں۔دارالحکومت طرابلس میں اسلامی گروپوں پر مشتمل فجر لیبیا کے تحت حکومت قائم ہے اور ملک کے مشرقی علاقوں میں وزیراعظم عبداللہ الثنی کی قیادت میں حکومت کی عمل داری ہے۔اس کے دفاتر مشرقی شہر طبرق میں قائم ہیں۔

2
2
3
3