.

شامی اپوزیشن مذاکرات کاروں کا تقرر خود کرے: الجبیر

’بشار الاسد اڑھائی لاکھ لوگوں کی زندگیاں گنوانے کا ذمہ دار ہے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیرخارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ شام کی سپریم اپوزیشن کونسل مذاکرات کے لیے اپنےنمائندے خود مقرر کرے گی۔ مذاکراتی نمائندوں کے تقرر کے سلسلے میں شامی اپوزیشن پرکوئی دباؤ نہیں ڈالا جا سکتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ریاض میں فرانسیسی ہم منصب لوران فابیوس کے ہمراہ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پچھلے ماہ سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والے شامی اپوزیشن کے نمائندہ اجلاس کے فیصلوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔ وزیر خارجہ نے شام میں اسد رجیم کی ظالمانہ پالیسیوں کے نتیجے میں بھوک اور قحط کا شکار شہریوں کی فوری مالی مدد پر زور دیا اور کہا کہ شام کے بحران کے سلسلے میں ریاض کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب شام کی وحدت، سالمیت اور سلامتی کا خواہاں ہے۔ شام میں قطع نظر کسی مخصوص فرقہ بندی کے تمام طبقات کو زندہ رہنے کا حق حاصل ہے۔ عادل الجبیر نے شام میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی ذمہ داری صدر بشارالاسد پرعاید کی اور کہا کہ شام کے اڑھائی لاکھ لوگوں کا خون بشارالاسد کی گردن پر ہے۔ بشارالاسد پر ہی لاکھوں افراد کو ملک سے نقل مکانی پر مجبور کرنے کے بھی ذمہ دار ہیں۔

اس موقع پر بات کرتے ہوئے فرانسیسی وزیر خارجہ لوران فابیوس نے کہا کہ ایران پرعاید پابندیاں اٹھنے سے تہران کے میزائل پروگرام سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران عالمی طاقتوں کے ساتھ طے پائے معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کرے گا۔