.

میزبان ممالک پر مہاجرین کا بوجھ کم کرنے کا وقت آگیا: یو این

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#اقوام_متحدہ کی ایجنسی برائے #مہاجرین کے نئے سربراہ کا کہنا ہے کہ دنیا کو چاہئیے ہے کہ وہ شامی بحران کا بوجھ بانٹںے کا ایک منصفانہ فارمولہ طے کرے تاکہ خطے میں موجود میزبان ممالک سے شامی مہاجرین کا بوجھ کم ہوسکے۔

#فیلیپو_گراندی کو رواں ماہ کے آغاز میں #شام میں جاری پانچ سال پرانی خانہ جنگی سے نبردآزما عالمی تنظیم کے سربراہ کا عہدہ سونپا گیا ہے۔ شامی تنازعے سمیت دیگر عالمی مسائل کی وجہ سے متاثرہ افراد تک امداد پہنچانے کا سلسلہ مشکل ہوتا جارہا ہے۔

#شام میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے چالیس لاکھ سے زیادہ شامی شہری اپنا وطن چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ جن میں سے اکثر ہمسایہ ممالک #اردن اور لبنان میں رہائش پذیر ہیں جبکہ لاکھوں افراد ترکی اور یونان کے راستے سے یورپ کا رخ کرچکے ہیں۔

گراندی #ترکی کے دورے کے بعد اردن آئے ہیں۔ رواں ہفتے کے دوران ہی وہ #لبنان کا دورہ کریں گے۔ انہوں نے اردن کے دارالحکومت عمان میں شاہ عبداللہ سے ملاقات کے بعد الزعتری مہاجر کیمپ کا دورہ کیا۔

گراندی کا مہاجرین کی آبادکاری کے حوالے سے کہنا تھا کہ "میرے خیال میں ہمیں اس حوالے سے مزید کوششیں کرنا ہوں گی۔ ہم بہت زیادہ تعداد میں لوگوں کی نو آبادکاری کی بات کررہے ہیں، دسیوں ہزاروں لوگوں کی آبادکاری کی۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ "ہمیں بین الاقوامی طور پر ذ٘مہ داریوں کی بہتر تقسیم کی ضرورت ہے۔ یہ بحران صرف شام کے ہمسایہ ممالک کی ذمہ داری نہیں ہے۔"

گراندی کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ مہاجرین کے بوجھ میں دبے ہوئے میزبان ممالک کو مہاجرین کے ملک چھوڑنے کا قانونی طریقہ وضع کیا جائے۔

گراندی اور ان کے اردنی میزبانوں نے اردن شام سرحد پر موجود 17 ہزار مہاجرین کی قسمت کا فیصلہ کرنے سے متعلق بھی بات چیت کی۔ یہ افراد ایک صحرائی علاقے میں پھنسے ہوئے ہیں اور اردن ہر دن سخت سیکیورٹی چیک کے بعد صرف کچھ درجن افراد کو ہی داخلے کی اجازت دیتا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے مہاجرین نے خبردار کیا ہے کہ ان مہاجرین کو بنیادی ضروریات زندگی بھی حاصل نہیں ہیں۔

اردن کی حکومت کے ترجمان محمد مومانی کا کہنا تھا کہ اردن کا ماننا ہے کہ #داعش کے کچھ حمایتی شام سے فرار ہونے والے مہاجرین میں چھپے ہوئے ہیں۔ مومانی کے مطابق اردن کی سلامتی انتہائی اہمیت کی حامل ہے اسی لئے اردن میں داخلے کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اردنی حکومت مہاجرین کو قبولنے والے کسی بھی ملک میں ان کو پہنچانے کی ذمہ داری لینے کے لئے راضی ہے۔