.

داعش نے 'جہادی جان' کی ہلاکت کی تصدیق کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ المعروف ''داعش" نے تصدیق کی ہے کہ برطانوی شدت پسند' جہادی جان' نومبر میں ہونے والے ڈرون حملے میں ہلاک ہو گیا تھا۔

اپنے آن لائن ترجمان رسالے "دابق" میں دولت اسلامیہ نے جہادی جان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کا اصل نام محمد اموازی تھا۔

نومبر میں امریکی فوج کا کہنا تھا کہ انھیں یقین ہے کہ شام میں امریکہ کے ایک فضائی حملے میں جہادی جان‘ کے نام سے مشہور دولتِ اسلامیہ کا برطانوی شدت پسند محمد اموازی ہلاک ہو گیا ہے۔

آن لائن رسالے میں کویت میں پیدا ہونے والے اموازی کو ابو مغرب المہاجر کے نام سے پکارا گیا ہے۔

دولت اسلامیہ کا کہنا ہے کہ جہادی جان کو 12 نومبر کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا۔

اس سے قبل امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے پریس سیکریٹری پیٹر کک نے کہا تھا کہ جہادی جان کی گاڑی کو شام کے علاقے رقّہ میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

اموازی ان ویڈیوز میں موجود تھے جن میں امریکی صحافی سٹیون سوتلوف اور جیمز فولی، برطانیہ امدادی کارکن ڈیوڈ ہینز اور ایلن ہیننگ، امریکی امدادی کارکن عبدالرحمٰن کیسگ اور بہت سے دیگر مغویوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔

امریکہ نے اس وقت کہا تھا کہ اندازہ ہے کہ جس گاڑی کو رقّہ کے قریب امریکی فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا اس میں جہادی جان کے علاوہ ایک اور شخص بھی موجود تھا۔

ایک عرصے سے اموازی کی کھوج لگائی جا رہی تھی.