.

طالبان کا بیرون ملک عسکری کارروائیوں سے صاف انکار

ایمن الظواہری کا مطالبہ مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تحریک طالبان نے پہلی بار القاعدہ کے سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری کا بیرون ملک عسکری کارروائیوں کا مطالبہ یکسر مسترد کردیا ہے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان سے باہر کسی دوسرے ملک میں عسکری کاررائیوں کے حق میں ہرگز نہیں ہیں اور نہ ہی کسی دوسرے کا یہ مطالبہ تسلیم کریں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تحریک طالبان افغانستان کی جانب سے یہ بیان انٹرنیٹ پر سامنے آنے والے ایمن الظواہری کے بیان کے دو روز بعد منطرعام پرآیا ہے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ وہ بیرون ملک عسکری کارروائیاں نہیں کریں گے اور نہ تحریک طالبان القاعدہ کی حکمت عملی کی پابند ہے۔ ان کی لڑائی افغانستان میں قابض فوج کے خلاف ہے جو منطقی انجام تک جاری رہے گی۔

خیال رہے کہ القاعدہ کے روپوش لیڈر ایمن الظواہری کا تازہ بیان دو روز پیشتر سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے اپنے ہم خیال جنگجوؤں کو ’’مجاھدین‘‘ قرار دیتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ سعودی حکومت کی جانب سے پچھلے دنوں 40 القاعدہ جنگجوؤں کو دی گئی پھانسی کے رد عمل میں افغانستان سے باہر امریکا اور مغربی تنصیبات پرحملے کریں۔ تاہم طالبان نے الظواہری کا مطالبہ یکسر مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان سے باہر کسی دوسرے ملک میں حملے نہیں کرسکتے۔

انٹرنیٹ پرسامنے آنےوالے بیان میں طالبان نے عالمی برادری سے اچھے تعلقات کے قیام کی خواہش کا بھی اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ عالمی برادری سے خوش گوار تعلقات کے خواہاں ہیں۔

طالبان کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’امارہ الاسلامیہ افغانستان‘‘ پوری دنیا بالخصوص اسلامی دنیا کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ ہم اچھے روابط اور استحکام قائم کرنے کے داعی ہیں۔ اہداف واقدار پرتبادلہ خیال کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم یہ بات پورے وثوق سے کہتے ہیں کہ افغانستان میں جہاد جاری ہے۔ جہاد میں حصہ لینا افغان قوم کا حق ہے۔ ہماری جنگ افغانستان کی سرحدوں کے اندر محدود ہے اور بیرون ملک کارروائیوں پریقین نہیں رکھتے۔

خیال رہے کہ طالبان کی جانب سے ماضی میں القاعدہ کی بیرون ملک کارروائیوں کی اپیل پر واضح رد عمل سامنے نہیں آیا۔ پہلی بار طالبان نے القاعدہ لیڈر کے اس بیان کا جواب دیا ہے جس میں انہوں نے اپنے حامی عسکری گروپوں اور افغانستان کے طالبان سے پرزور مطالبہ کیا تھا کہ وہ صلیبی صہیونی طاقتوں کے خلاف حسب توفیق جہاں ہوسکے عسکری کارروائیاں کریں تاکہ فارس آل شویل کے قتل کا انتقام لیا جاسکے۔

طالبان کے اس بیان پرتبصرہ کرتے ہوئے افغان صحافی نذر محمد مطمئن نے کہا کہ طالبان نے ماضی میں بھی بیرون ملک عسکری کارروائیوں میں حصہ لینے کی مخالفت کی ہے۔ طالبان نے اس وقت بھی بیرون ملک ایسی کوئی کارروائی نہیں کی جب طالبان اور القاعدہ کے درمیان گہرے مراسم تھے۔ اب تو دونوں کے درمیان روابط بھی محدود ہوگئے ہیں۔ اس وقت افغانستان میں القاعدہ جنگجوؤں کی تعداد بھی معدودے چند ہی باقی بچی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں افغان صحافی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں القاعدہ اور طالبان کے درمیان رابط نہ ہونے کے برابر ہیں۔ موجودہ حالات میں طالبان اور القاعدہ دو الگ الگ سیاسی نقطہ ہائے نظر بن چکے ہیں۔ طالبان صرف اندرون ملک غیرملکی افواج کے خلاف نبرد آزما رہنے جب کہ القاعدہ عالمی سطح پر مخالفین کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی حامی ہے۔