.

ایرانی صدر ملک میں شفاف اور منصفانہ انتخابات کے خواہاں

اصلاح اور اعتدال پسندوں کو پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ہونی چاہیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی صدر حسن روحانی نے ملک میں شفاف اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کردیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اعتدال پسند اور اصلاح پسند سیاسی دھڑوں کو بھی آیندہ ماہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ہونی چاہیے۔

انھوں نے یہ مطالبہ جمعرات کو ایک تقریر میں کیا ہے اور ان کی یہ تقریر ایران کے آئینی ادارے پر کڑی تنقید سمجھی جارہی ہے جس نے اعتدال پسند اور اصلاح پسند امیدواروں کی ایک بڑی تعداد کو انتخاب لڑنے کا نااہل قرار دے دیا ہے۔

حسن روحانی نے کہا کہ ''پارلیمان عوام کا نمایندہ ادارہ ہے، کسی خاص دھڑے کا ادارہ نہیں ہے۔ایران کی مذہبی اقلیتوں یہود ،عیسائیوں اور زرتشتوں کی پارلیمان میں چار، چار نشستیں ہیں حالانکہ ان کی مجموعی تعداد پانچ لاکھ سے بھی کم ہے۔اسی طرح ان سے بڑے گروپوں کی بھی پارلیمان میں نمائندگی ہونی چاہیے''۔

انھوں نے سوال کیا کہ ''اس دھڑے کے بارے میں کیا خیال ہے جس کے حامیوں کی تعداد ایک کروڑ کے لگ بھگ ہے''۔ان کا اشارہ اعتدال پسندوں اور اصلاح پسندوں کے حامیوں کی جانب تھا مگر انھیں پارلیمان میں اپنے نمائندے منتخب کرکے بھیجنے کا حق حاصل نہیں ہے اور ان کے بہت سے امیدواروں کو ایران میں انتخابات کے عمل کی نگرانی کرنے والے آئینی ادارے نے نااہل قرار دے دیا ہے۔