.

ایران عرب نوجوانوں کو دہشت گردی کا ایندھن بنانے میں ملوث

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایرانی ٹریننگ سینٹرز بے نقاب کردیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#سعودی_عرب نے پہلی بار #ایران کی #پاسداران_انقلاب کی جانب سے خلیجی ممالک کے نوجوانوں کو دہشت گردی کا ایندھن بنانے کی سازش کا پردہ چاک کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایران کس طرح عرب ملکوں میں مداخلت کر کے یہاں کے نوجوان طبقے کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتا چلا آ رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی وزارت خارجہ نے حال ہی میں ایرانی پاسداران انقلاب کے حوالے سے چشم کشا انکشافات کیے ہیں اور بتایا ہے کہ ایران منظم حکمت پالیسی کے تحت مشرق وسطیٰ میں فتنہ و فساد کو فروغ دینے، نوجوانوں کو بھرتی کر کے انہیں عسکری تربیت دینے اور بعد ازاں انہیں دہشت گردی جیسے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔ اس مکروہ ایرانی حربے میں ایران کی طاقت ور فورج پاسداران انقلاب کے بیرون ملک سرگرم عناصر پیش پیش ہیں۔

سعودی عرب کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی رجیم خلیج تعاون کونسل کے رُکن ممالک میں مذہبی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے نوجوانوں کے مذہبی جذبات کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔ نوجوان طبقے کو دوسرےممالک کے ذریعے ایران پہنچانے اور بغیر ویزے کے انہیں ایران لے جا کر خفیہ طریقے سے دہشت گردی کی تربیت دینے کے ہتھکنڈوں پرعمل پیرا رہا ہے۔ جہاں ایران نوجوانوں کے مذہبی استحصال میں ناکام رہا وہاں خلیجی ملکوں کے باشندوں کو اغواء کر کے انہیں تہران پہنچایا گیا۔ بعد ازاں انہیں خلیجی ملکوں میں دہشت گردی کے مقاصد کے لیے بھیجا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایران میں ایسے ٹریننگ سیںٹرز کا پتا چلا ہے جہاں خلیج سے مختلف حربوں کے ذریعے لائے گئے عرب نوجوانوں کو فوجی تربیت دینے کے بعد واپس ان کے ملکوں کو بھیجا جاتا ہے۔ ویسے تو پورے ایران میں ایسے ان گنت خفیہ اور علانیہ ٹریننگ سینٹرز موجود ہیں مگران میں اہم ترین سینٹرز میں شمالی تہران میں واقع ’’اما علی‘‘، مغربی تہران کے کرج شہر میں ’’امیر المومنین‘‘ اور شیراز شہر میں ’’مرصاد‘‘ نامی ٹریننگ سینٹر خاص طورپر مشہور ہیں۔ ’’مرصاد‘‘ میں #افغانستان اور #چیچنیا سے لائے گئے اجرتی قاتلوں کو رکھا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کے عرب ممالک کے نوجوانوں کی تربیت کے لیے قائم مراکز میں صرف ایران کے اندر کے واقع مراکز ہی شامل نہیں #لبنان اور شام سمیت کئی دوسرے ملکوں میں بھی پاسداران انقلاب کے ٹریننگ سینٹر چل رہے ہیں۔ شمالی لبنان میں ’’بعلبک‘‘ شام میں حمص شہرمیں موجود ایرانی ٹریننگ سینٹرز کے علاوہ جزیرہ ’’دھلک‘‘ کی عصب بندرگاہ، وینز ویلا اور لاطینی امریکا میں کولمبیا جیسے ممالک تک ایران کے ٹریننگ سینٹرز پھیلے ہوئے ہیں۔

پاسداران انقلاب کے ان ہمہ نوع مراکز کے نتائج اس وقت سامنے آئے جب سنہ 2001ء میں خلیج تعاون کونسل کے رکن ملکوں سعودی عرب، بحرین اور کویت میں یکے بعد دیگر کئی ایسے خفیہ سیل پکڑے گئے جنہیں مبینہ طور پر پاسداران انقلاب کے مرکز میں تربیت دی گئی تھی۔

پاسداران انقلاب کی سب سے زیادہ مداخلت بحرین میں سامنے آئی جہاں کے سیکیورٹی اداروں نے ایرانی تربیت یافتہ دہشت گردوں کے کئی گروپ بے نقاب کرتے ہوئے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا۔

بحرین میں پکڑے گئے دہشت گردوں نے اعتراف کیا کہ اُنہیں ایران پاسداران انقلاب کے اہلکار انہیں تربیت دیتے رہے ہیں۔ انہیں تربیت دی اسی لیے گئی تاکہ خلیجی ممالک میں افراتفر پھیلانے کے لیے اہم تنصیبات پر حملے کیے جائیں اور پرتشدد مظاہروں کے ذریعے عرب ممالک کی املاک کو نقصان پہنچایا جائے۔

سنہ 2011ء میں بحرین کے صدر مقام میں منامہ میں’’الؤلؤۃ‘‘ چوک کے مقام پر کی گئی کارروائی میں ملوث دہشت گردوں نے اعتراف کیا کہ انہیں ایرانی پاسداران انقلاب نے #تہران میں سعودی شہریوں کے ہمراہ عسکری تربیت فراہم کی تھی جس کا مقصد بحرین اور سعودی عرب کے سیکیورٹی اداروں کی اہم شخصیات اور سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا۔ سنہ 2013ء میں عرب ممالک میں ایران کی سیاسی مداخلت کو انقلابی نہج میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ عرب ممالک میں کی جانے والی کارروائیوں میں ملوث عناصر نے اعتراف کیا انہیں ایرانی عہدیدار عرب ممالک کی جاسوسی، بم تیار کرنے اور بارودی مواد کو دھماکوں سے اڑانے کی تربیت فراہم کی تھی۔

مارچ 2015ء میں مغربی سفارت کاروں نے انکشاف کیا کہ جنوبی شام میں ایرانی پاسداران انقلاب کے مراکز موجود ہیں جہاں #یمن کے #حوثی باغیوں کو جنگی تربیت مہیا کی جاتی ہے،

اٹلی کی خبر رساں ایجنسی ’’آکی‘‘ کی رپورٹ کے مطابق درعا گورنری میں بصریٰ اور اذرع کے مقامات پر ایک سو حوثی جنگجوؤں کو عسکری تربیت مہیا کی گئی۔

بیرون ملک ایران کی عسکری سرگرمیوں کی رپورٹس کے جلو میں پاسداران انقلاب کے چیف جنرل محمد علی جعفری کا بیان بھی اہمیت کا حامل ہے۔ حال ہی میں انہوں نے اعتراف کیا کہ پانچ ملکوں عراق، شام، یمن، پاکستان اور افغانستان میں پاسداران انقلاب کے تربیت یافتہ دو لاکھ جنگجو موجود ہیں۔