.

شام کے بحران کا فوجی حل ممکن نہیں: جواد ظریف

"سعودی عرب سے محاذ آرائی کسی کے مفاد میں نہیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ شام کا بحران بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، اس کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے سے تباہ شام مزید کسی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس لیے تہران شام کے بحران کو سیاسی اور سفارتی مساعی سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ڈیووس میں منعقدہ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ شام کا بحران صرف بات چیت کے ذریعےحل کیا جا سکتا ہے۔ اس مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔

اس موقع پر جواد ظریف نے تہران کے میزائل پروگرام پر امریکا کی جانب سے نئی پابندیوں کو ’عجیب' اور 'حیران کن' قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس بات پر حیران ہیں کہ امریکا نے ایران کے میزائل پروگرام پر تشویش کا اظہا کیوں کیا ہے حالانکہ ہمارا میزائل پروگرام عالمی قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہے۔

سعودی عرب سے محاذ آرائی

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ سعودی عرب سے محاذ آرائی کسی کے بھی حق میں نہیں ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ "تہران میں سعودی سفارتخانے پر حملہ ہماری سلامتی اور حاکمیت پر حملے کے مترادف تھا، ہم اس جارحیت کا ارتکاب کرنے والوں کا محاسبہ کریں گے۔ اس واقعے کے بعد ہم نے سعودی سفارتکاروں کے تحفظ کے لئے ضروری اقدامات اٹھائے تھے۔ محاذ آرائی اور کشیدگی میں اضافہ کسے کے حق میں بہتر نہیں ہے۔"

اس سے قبل ایران کے مرشد اعلیٰ علی خامنہ ای نے بھی سعودی سفارتخانے پر حملے کے اٹھارویں روز اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں سفارتی مشن پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ماضی میں برطانوی سفارتخانے پر حملے جیسا 'انتہائی غلط' اقدام قرار دیا تھا۔