.

اردن مہاجرین کے لیے اکنامک زون بنانے کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ملکہ رانیا العبداللہ نے کہا ہے کہ اردن مہاجرین کو مزید مالیاتی آزادی دینے کے لیے اقتصادی زون بنانے کو تیار ہے۔

وہ سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیووس میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم میں ایک پینل مباحثے کے دوران گفتگو کررہی تھیں۔پینل کے شرکاء نے دنیا بھر میں چھے کروڑ سے زیادہ مہاجرین کی امداد کے لیے جوہری تبدیلی لانے پر زوردیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی امداد کے لیے روایتی طریقے اب کارآمد نہیں رہے ہیں کیونکہ دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا کو مہاجرین اور پناہ گزین کے بدترین بحران کا سامنا ہے۔

ملکہ رانیا نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ''ہم ایک اقتصادی زون کے قیام کے لیے تیار ہیں جہاں مہاجرین کو روزگار کے مواقع میسر آسکیں''۔اردن میں اس وقت تیرہ لاکھ کے لگ بھگ مہاجرین رہ رہے ہیں۔

ملکہ رانیا نے اپنی تجویز کے خدوخال واضح کرتے ہوئے کہا کہ ''غیرملکی اور ملکی سرمایہ کار سپلائی چین کے سلسلے کو وہاں منتقل کرسکتے ہیں۔مہاجرین کو ایسی مہارتیں سکھائی جائیں کہ جب وہ اپنے آبائی ممالک میں امن ہونے کی صورت میں لوٹیں تو وہاں اپنے لیے روزگار کا خود بندوبست کرسکیں''۔

انھوں نے مزید کہا کہ مہاجرین کو آزادی اور معاشی خود انحصاری کی ضرورت ہے دوسری صورت میں انتہا پسند انھیں اپنی صفوں میں بھرتی کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ جنگوں یا تنازعات کی وجہ سے بے گھر ہونے والا ایک شخص اوسطاً سترہ سال مہاجر کے طور پر گزارتا ہے اور اردن اکیلا اس مسئلے سے نہیں نمٹ سکتا ہے۔بین الاقوامی ادارے صرف 36 فی صد رقوم مہاجرین کی دیکھ بھال کے لیے مہیا کرتے ہیں جبکہ باقی تمام رقم کا اردنی حکومت خود بندوبست کرتی ہے۔

ملکہ رانیا کے اس بیان سے چند روز قبل ہی برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے یورپی یونین کے لیڈروں پر زوردیا تھا کہ وہ اردن کی مدد کریں تاکہ وہ مہاجرین کی بہتر طریقے سے دیکھ بھال کرسکے۔ان کا کہنا تھا کہ ''یہ اقدام نہ صرف شام یا اس کے ہمسایہ ممالک کے مفاد میں ہے بلکہ یہ یورپی یونین کے بھی مفاد میں ہوگا۔اگر ہم لوگوں کو ان کے خطے ہی میں رہنے کے لیے کچھ کریں گے تو پھر ان کے یورپ کی جانب رُخ کرنے کے امکانات بھی کم ہوجائیں گے''۔

بیلجیئم کے نائب وزیراعظم الیگزینڈر ڈی کرو نے کہا کہ ہمیں اس مسئلے کو مختلف طریقے سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔انھوں نے مختصرالمیعاد انسانی اقدامات اور طویل المیعاد ترقی کے درمیان دیوار کو توڑنے کی ضرورت پر بھی زوردیا تاکہ مہاجرین کو تعلیم ،لیبر مارکیٹ اور دوسرے فوائد تک رسائی حاصل ہوسکے۔

ڈیووس میں منعقدہ چھیالیسویں سالانہ عالمی اقتصادی فورم میں دنیا بھر کے ممالک کی حکومتوں کے سربراہان ،عالمی اداروں اور تنظیموں کے عہدے دار ،کاروباری طبقے کی سرکردہ شخصیات ،سول سوسائٹی ،ماہرین تعلیم ،محققین ،میڈیا اور فن سے وابستہ ڈھائی ہزار سے زیادہ مندوبین شرکت کررہے ہیں۔فورم 25 جنوری تک جاری رہے گا۔