.

سعودی عرب : انجینئرنگ کی 2000 جعلی ڈگریوں کی تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حالیہ عرصے میں سعودی کونسل آف انجینئرز کی جانب سے (انجینئرنگ کی) 2000 جعلی ڈگریاں ضبط کی جا چکی ہیں۔

سعودی روزنامے "الوطن" نے سعودی کونسل آف انجینئرز کے سربراہ ڈاکٹر جمیل البقعاوی کے حوالے سے بتایا ہے کہ جعلی ڈگریوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک سیکورٹی کمیشن تشکیل دیا گیا ہے۔ کمیشن کی تشکیل سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن نایف کے حکم پر عمل میں لائی گئی۔ کمیشن میں تکنیکی پہلوؤں کو کونسل خود سنبھالے گی۔ اب تک انجینئرنگ کی 2000 جعلی ڈگریوں کو ضبط کیا جاچکا ہے جب کہ ان ڈگریوں کے رکھنے والوں کو سیکورٹی اداروں کے حوالے کیا گیا جہاں ان کے ساتھ مملکت میں جعل سازی سے متعلق نظام کے مطابق معاملہ کیا گیا۔

"الوطن" اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر جمیل البقعاوی نے باور کرایا کہ حکام کی جانب سے کیے گئے سخت اقدامات کی وجہ سے جعلی انجینئروں کے سامنے آنے کے واقعات میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ اب ملازمت کے لیے آنے والے کسی غیرملکی کے لیے یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ جعلی ڈگری کے ساتھ کام کرے۔ جعلی ڈگریوں کے حامل انجینئروں کی موجودگی ختم کرنے کے لیے طریقہ کار کو سخت کردیا گیا ہے، اور اب کونسل آف انجینئرز کی جانب سے ڈگری کی تصدیق اور تفصیلی چھان بین کے بغیر کسی انجینئر کے لیے اقامہ جاری نہیں کیا جاتا ہے۔

البقعاوی نے سعودی کونسل آف انجینئرز اور متعدد ممالک میں انجینئرنگ کونسلوں اور باڈیز کے درمیان معلومات کے تبادلے پر بھی روشنی ڈالی، جس کے نتیجے میں 2015 کے دوران مملکت آنے والے جعلسازوں کی تعداد میں چھ گنا کمی واقع ہوئی۔ ان افراد کے سعودی عرب آنے سے پہلے ان کی ڈگریوں کی تصدیق کی جاتی ہے تاکہ کسی بھی جعلی انجینئر کے روکے جانے کو یقینی بنایا جاسکے۔