.

امریکا: حالیہ دہائیوں کا غیرمانوس ترین انتخابی موسم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آج سے چھ ماہ قبل تجزیہ کاروں یا ریپبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں جماعتوں کی قیادت کو ہر گز یہ توقع نہ تھی کہ وائٹ ہاؤس پہنچنے کی دوڑ اس حد تک شدت اختیار کرلے گی اور زیادہ غصہ ور اور روایتی سیاسی اداروں کے باہر سے آنے والے امیدوار، صدارت کی دوڑ اور سیاسی پالوں پر چھائے ہوئے ہوں گے۔ 2015 کی ابتدا میں نامزدگی کا سیزن شروع ہونے پر ریپبلکنز کے درمیان پارٹی کے ممکنہ امیدواروں کے طور پر مشہور اور معروف نام گردش کررہے تھے۔ ان میں ریاست فلوریڈا کے سابق گورنر جیب بش، ریاست وسکانسن کے گورنر اسکاٹ واکر، ریاست نیوجرسی کے گورنر کرس کرسٹی شامل ہیں۔

ادھر ڈیموکریٹس ہیلری کلنٹن کے آنے والے "کردار" اور یا پھر نائب صد جوزف بایئڈن کے بارے میں بات کررہے تھے۔ تاہم آخری چھ ماہ کے دوران اس دوڑ میں سامنے آنے والی حیران کن پیش رفت سے واضح طور پر ظاہر ہوچکا ہے کہ اس مرتبہ کا صدارتی انتخاب گزشتہ انتخابات سے یکسر مختلف ہوگا۔ اس لیے کہ چار نمایاں ترین امیدواروں میں سے تین امیدوار یا تو پیشہ وارانہ سیاسی طبقے سے باہر کے ہیں یا پھر نامزدگی کے اعلان سے قبل قومی سطح پر معروف نہیں تھے۔

یکم فروری کو ریاست آئیووا میں ریپبلکن پارٹی کے ابتدائی انتخابات شروع ہونے کا وقت قریب آچکا ہے۔ اس موقع پر برتری کے حامل دو امیدواروں میں سے ایک تو ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔ 69 سالہ دولت مند کاروباری شخصیت اپنی زندگی میں کبھی کسی عہدے کے لیے منتخب نہیں ہوئی۔ دوسری شخصیت سینیٹر ٹیڈ کروز ہیں جو پہلی مرتبہ سینیٹ میں فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ وہ نامزدگی سے قبل اپنی ریاست ٹیکساس سے باہر معروف نہیں تھے۔

ادھر ڈیموکریٹس کی دوڑ میں برتری کے حامل امیدوار سینیٹر برنارڈ سینڈرز ہیں۔ 74 سالہ برنارڈ اپنی چھوٹی سی ریاست ورمونٹ کے باہر معروف نہیں تھے۔ اب رہ گئیں ہیلری کلنٹن، سابقہ وزیر خارجہ اور 90ء کی دہائی میں سینیٹ کی رکن اور خاتون اول رہنے والی ہیلری ہی اپنی نامزدگی سے قبل شہرت کی حامل تھیں۔ وہ 2008 کے انتخابات میں اپنے مقابل سینیٹر باراک اوباما کو شکست دینے کے قریب آگئیں تھیں جب وہ ایک گمنام امیدوار تھے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہیلری کلنٹن کو 2008 کی طرح ایک مرتبہ پھر آئیووا میں شکست کا سامنا ہوسکتا ہے۔ وہ بھی ایک ایسے امیدوار کے ہاتھوں جو خود کو ڈیموکریٹک – سوشلسٹ کا نام دیتا ہے، اور کئی سالوں سے جدوجہد میں مصروف ہے تاکہ ایک ترقی پسند سیاسی تحریک کا قائد بن سکے نہ کہ ایک روایتی سیاست داں۔

سیاسی میدان میں ان "اجنبیوں" کی نمایاں حیثیت اور اپنے حامیوں کے عزم کی بنیاد پر ان کی برتری اس بات کو واضح کرتی ہے کہ ریپبلکن پارٹی کے اندر پیشہ ور سیاسی طبقے کے خلاف بغاوت کی سی صورت حال ہے۔ اس طبقے نے اپنے بیرون ملک تصفیوں، مہم جوئیوں اور ناکامیوں کے ذریعے سابق صدر جارج بش کے دور کے اختتام پر ملک کو بند گلی تک پہنچا دیا تھا۔ جب گزشتہ صدی میں 1930ء کی دہائی کے بعد امریکا کو بدترین اقتصادی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔

غیض وغضب سے بھرے ریپبلکنز کا کہنا ہے کہ ان کی قیادت نے ملک کو آٹھ سالوں کے لیے باراک اوباما کے ہاتھ میں دے دیا۔ ریپبلکنز میں زیادہ تر درمیانی طبقے سے تعلق رکھنے اور محدود آمدنی والے ہیں، جو عام طور پر سماجی لحاظ سے مذہبی اور قدامت پرست ہیں اور ان کی اکثریت سفید فام ہے۔ ان کی جانب سے غصے سے بھرے امیدواروں مثلا ٹرمپ اور کروز کے ساتھ لگاؤ کا اظہار کیا گیا ہے۔ جو ہر قسم کی سودے بازی کو مسترد کرکے اور دنیا پر امریکی غلبے کو واپس لاکر ان کے لیے تبدیلی کا سامان پیدا کرسکتے ہیں۔

دوسری جانب سینیٹر سینڈرز کی مقبولیت اس بات کو بھی واضح کرتی ہے کہ لبرل ڈیموکریٹس کے درمیان عدم اطمینان کی فضا موجود ہے۔ اس لیے کہ اوباما نے اس ہیلتھ انشورنس پروگرام سے زیادہ جدید پروگرام پیش نہیں کیا جس کی کانگریس نے ان کی پہلی مدت صدارت میں منظوری دی تھی۔ اس کے علاوہ اوباما نے ڈیموکریٹک پارٹی میں نوجوانوں اور تعلیم یافتہ افراد کی نمائندگی کرنے والی اہم شخصیات کو مسترد کرتے ہوئے نامزدگی کا تاج ہیلری کلنٹن کے سر پر رکھ دیا۔ جن پر الزام ہے کہ وہ سینڈرز جیسے اعتبار اور امانت داری کی حامل نہیں ہیں۔ اور وہ اپنے ساتھ منفی اور مثبت پہلوؤں کا انبار لائیں گی۔

ان آخری دنوں میں اور آیووا کے انتخابات کی الٹی گنتی شروع ہونے کے بعد، برتری کے حامل چاروں امیدواروں نے پوری گھن گرج کے ساتھ اپنی تلواروں کو تیز کرلیا ہے تاکہ مقابل امیدواروں کو کاری ضرب لگائی جاسکے۔ اس دوران اپنے ترکش میں موجود ہر تیر کو آزمایا جارہا ہے۔ اسی طرح ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست الاسکا کی سابق گورنر اور 2008 میں نائب صدر کے منصب کی امیدوار سارہ پیلن کو جو بڑی حد تک اپنی سابقہ تابانی کھوچکی تھیں، پھر سے متحرک کردیا ہے۔ اس کوشش میں کہ وہ ٹرمپ کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کردیں اور آئیووا میں شدت پسند طبقے کے ووٹ بھی حاصل کرسکیں۔

جہاں تک ڈیموکریٹس کی دوڑ کا تعلق ہے تو اس میں ہیلری کلنٹن نے سینڈرز کے خلاف بھرپور مہم جاری رکھی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سینڈرز کے سوشلسٹ نظریات خود مختار امریکی ووٹرز کو خوف زدہ کردیں گے بالخصوص قدامت پسند ریاستوں میں جہاں کسی سوشلسٹ امیدوار کو ووٹ دینا ممکن نہیں۔ ہیلری کلنٹن اپنے شوہر بل کلنٹن کے لوگوں کے ساتھ تعلقات رکھنے میں تجربے اور صلاحیت کے پیش نظر، ان کو اپنے لیے ایک بھاری ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہیں۔

اولین دو ریاستوں کے نتائج بہت اہمیت کے حامل ہیں جن میں پہلے آیووا اور اس کے ایک ہفتے کے بعد نیوہیمپشائر۔ دونوں سے واضح ہوجائے گا کہ آیا ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سارہ پیلن کو بھرتی کرنا درست فیصلہ تھا، اور آیا کہ ہیلری کلنٹن امریکیوں کو اپنے مقابل سوشلسٹ امیدوار سے خوف دلانے میں حق بجانب تھیں اور آیا کہ بل کلنٹن ابھی تک اپنی سابقہ سحرانگیز دل پذیری رکھتے ہیں یا نہیں۔