.

امریکا: روس کے 5 اعزازی قونصلوں کے اجازت نامے منسوخ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خارجہ کے ایک اعلان کے مطابق ان کے ملک نے جمعہ کے روز #روس کے پانچ اعزازی قونصلوں سے "اعتماد کا دستاویز" واپس لے لیا ہے۔ یہ اقدام روس میں کام کرنے والے امریکی سفارت کاروں کو درپیش ایذا دہی کے جواب میں کیا گیا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر کا کہنا ہے کہ "روس میں ہمارے سفارت خانے اور قونصل خانوں کی سرگرمیوں میں رخنہ اندازی جاری رہنے کی صورت میں ہم دیگر مناسب اقدامات کے لیے بھی تیار ہیں"۔

روسی وزارت خارجہ نے اپنے پانچ اعزازی قونصلوں کے خلاف #واشنگٹن حکومت کے اقدامات کی مذمت کی ہے۔ یہ اعزازی قونصلر پانچ امریکی شہری ہیں جو کیلیفورنیا، فلوریڈا، منیسوٹا، یوٹا اور پیورٹو ریکو میں روس کی نمائندگی کررہے تھے۔ روسی ترجمان نے الزام عائد کیا کہ امریکی سیکورٹی ادارے "روسی سفارتی مشنوں کے اہل کاروں کے خلاف اشتعال انگیز کارروائیاں کر رہے ہیں، اور یہ صرف امریکا تک محدود نہیں ہے"۔

دوسری جانب امریکی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سرکاری سفارتی تعلقات، اعزازی قونصلوں کے خلاف کیے گئے اقدامات سے ہر گز متاثر نہیں ہوں گے۔ وزارت خارجہ کے نزدیک یہ اقدامات امریکی مفادات کے خلاف ماسکو حکومت کی مماثل تدبیروں کا جواب ہیں۔

مارک ٹونر کا کہنا ہے کہ "ہم نے یہ قدم روس میں ہماری سفارتی اور قونصلی سرگرمیوں کے خلاف مسلسل جاری روسی مداخلت کے جواب کے طور پر اٹھایا ہے۔ اس مداخلت میں وسیع پیمانے پر ہمارے اہل کاروں کو ہراساں کرنا اور ماسکو میں امریکی مرکز کی جبری بندش شامل ہیں"۔

مقامی حکام نے گزشتہ سال ستمبر میں #ماسکو میں امریکی مرکز کو بند کردیا تھا۔ یہ مرکز 22 برسوں سے ایک لائبریری کے ساتھ ساتھ روسیوں اور امریکیوں کے درمیان ثقافتی ملاقاتوں کے مقام کے طور پر بھی استعمال کیا جا رہا تھا۔

واضح رہے کہ اعزازی قونصل قانونی طور پر سفارت کار کی حیثیت نہیں رکھتے اور نہ ہی ان کو سفارتی استثناء حاصل ہوتا ہے۔ ان شخصیات پر بیرون میں کسی ملک کی حکومت اور اس کے شہریوں کی نمائندگی کے لیے مقرر کیا جاتا ہے۔