.

بلوچ عسکریت پسند گروپ نےایرانی ڈرون مار گرایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی حکومت کے مخالف ایک بلوچ عسکریت پسند گروپ نے #پاکستان کی سرحد سے متصل ایرانی صوبہ #بلوچستان کے ’’جالق‘‘ کے مقام پر #ایران کے ایک بغیر پائلٹ ڈرون طیارے کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بلوچ عسکریت پسند گروپ ’’#جیش_النصر‘‘ کی جانب سے جاری کردہ ایک فوٹیج انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی ہے جس میں #سراوان شہر کے قریب’’جالق‘‘ کےمقام پر ایک ایرانی فوج کے ایک بغیر پائلٹ ڈرون طیارے کو دکھایا گیا ہے۔

ویڈیو میں کہا گیا ہے کہ کہ اللہ کے خاص فضل و کرم سے اہل سنت والجماعت کے مجاھدین نے ایران کے ایک جاسوس ڈرون طیارے کو سراوان سے 20 کلو میٹر دور جالق کے مقام پر اتارنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

ایرانی بلوچستان کے ایک مقامی سماجی کارکن ملا مجید بلوچی نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی فوج کا جاسوس طیارہ صوبے کے اس علاقے میں اتارا گیا ہے جہاں کئی ایک بلوچ عسکری گروپ حکومت کے خلاف سرگرم ہیں جن میں جیش النصر بھی شامل ہیں۔ تاہم یہ کارروائی جیش النصر کی ہے۔

ملا مجید کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت اور اس کے سیکیورٹی اداروں کا خیال تھا کہ تنظیم کےسربراہ عبدالرؤف ریگی کے قتل کے بعد تنظیم کو ختم کردیا گیا ہے مگر جیش الںصر نے ایرانی فوج کا جاسوس طیارہ اتارنے میں کامیابی حاصل کر کے یہ ثابت کردیا ہے کہ ایران حکومت مخالف جنگجو گروپوں کوختم کرنے اور ان کی کمر توڑنے میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے۔

خیال رہے کہ ایران نے ’جنداللہ‘ نامی گروپ کے سربراہ عبدالمالک ریگی کو پراسرار طریقے سے اغواء کے بعد سنہ 20 مئی سنہ 2010ء کو پھانسی ے دی تھی۔ اس کے بعد ان کے بھائی مولوی عبدالرؤف الریگی اور تنظیم کے ایک دوسرے رکن صلاح الدین فاروقی نے مل کر جنداللہ کو’’جیش العدل‘‘ کے نام سے منظم کیا۔

سنہ 2013ء میں جیش العدل نے ایرانی بارڈ فورس کے کئی اہلکاروں کو یرغمال بنانے میں کامیابی حاصل کی تاہم ان کی رہائی کے معاملے میں عبدالرؤف ریگی اور صلاح الدین فاروقی میں اختلافات پیدا ہوگئے۔ یہ اختلافات تنظیم میں پھوٹ کا باعث بنے۔ 29 اگست 2014ء کو عبدالرؤف ریگی کو بھی پاکستان کے شہر کوئٹہ میں ایک قاتلانہ حملے میں ہلاک کردیا گیا تھا۔