.

حوثیوں کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ ہیں: کیری

سعودی اور امریکی نقطہ ہائے نظر میں بڑی مطابقت ہے: الجبیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزیر خارجہ #عادل_الجبیر کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور امریکا کے درمیان بہت سے معاملات میں نقطہ ہائے نظر کی بڑی مطابقت پائی جاتی ہے۔ انہوں نے یہ بات ریاض میں اپنے امریکی ہم منصب کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے باور کرایا کہ یمن میں حوثی بغاوت کا مقابلہ کرنے میں واشنگٹن حکومت سعودی عرب کے ساتھ کھڑی ہے۔

کیری کے مطابق انہوں نے عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کے ساتھ ان کے ملک میں داعش کے خلاف جنگ کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔ انہوں نے اس یقین کا بھی اظہار کیا کہ عراق اور شام میں داعش جلد ہی بڑے دھچکے سے دوچار ہوگی۔

شام کے حوالے سے جان کیری کا کا کہنا تھا کہ " شامی مذاکرات کے حوالے سے ہم نے ابتدائی اقدامات واضح کردیے ... جنیوا اجلاس شام میں عبوری مرحلے تک پہنچا دے گا۔ ہم جنیوا مذاکرات کے بارے میں سنجیدہ اور پرامید ہیں، تاہم شام میں سیاسی تصفیہ ایک مشکل کام ہے"۔

امریکی وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ "بشار الاسد وہ مقناطیس ہیں جو دہشت گردی کو کھینچ کر شام میں لائے"۔ انہوں نے شام اور اس کے پڑوسی ممالک تک پھیل جانے پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "داعش تنظیم تمام ملکوں کے لیے دشمن ہے اور داعش کو مدد فراہم کرنے والا ہر وجود اتحادی افواج کی ضربوں کا نشانہ ہوگا۔"

اس دوران جان کیری نے یہ بھی کہا کہ "امریکا ابھی تک خطے میں ایران کی سرگرمیوں کو مشکوک نظروں سے دیکھ رہا ہے ... حزب اللہ کے اکثر ہتھیار ایران سے دمشق کے راستے آئے ہیں ... اور حزب اللہ کے پاس تقریبا 80 ہزار راکٹ ہیں"۔

اس سلسلے میں سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ "کیری کے ساتھ بات چیت میں ہم خطے میں ایرانی مداخلت کو روکنے کے طریقہ کار کو زیر بحث لائے ہیں۔ ایران ابھی تک دہشت گردی کو سپورٹ کر رہا ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ خطے کا استحکام ایران سے اس کی دشمنانہ کارروائیاں روکنے کا تقاضا کرتا ہے اور خلیجی ممالک خطے میں ایرانی مداخلتوں کا سامنا کرنے کے لیے امریکا کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔"

سعودی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ "ہم شام میں بشار الاسد کا کردار ختم کرنے اور یمن میں انقلاب کے خاتمے کے لیے واشنگٹن کے ساتھ باہمی تعاون کررہے ہیں ... ساتھ ہی لیبیا میں بھی امن و استحکام کی واپسی کے لیے کام کر رہے ہیں۔"

امریکی وزیر خارجہ جان کیری ہفتے کے روز سعودی دارالحکومت ریاض پہنچے تھے۔ امریکی سفارت خانے کے میڈیا اتاشی کے مطابق کیری کی مصروفیات میں، مذاکرات سے متعلق شامی اپوزیشن کی سپریم آرگنائزیشن کے کوآرڈینیٹر ریاض حجاب کے ساتھ ملاقات بھی شامل ہے۔

واضح رہے کہ امریکا، روس اور اقوام متحدہ نے جنیوا کانفرنس کو اس کی مقررہ تاریخ سے کچھ دن آگے کردینے کو ترجیح دی ہے۔ اس سے قبل شامی اپوزیشن کے مذاکراتی وفد کے نائب سربراہ جورج صبرہ نے باور کرایا تھا کہ روسی حملوں کے روکے جانے اور محاصرے کو ختم کیے جانے سے قبل شامی حکومت کے ساتھ امن بات چیت نہیں ممکن نہیں۔

دوسری جانب، کرد قائدین نے خبردار کیا ہے کہ اگر کردوں کو جنیوا مذاکرات سے دور رکھا گیا تو یہ بات چیت ناکام ہوجائے گی، جب کہ اپوزیشن نے شام میں مرکزی حیثیت رکھنے کے سبب کردوں کی شرکت پر زور دیا ہے۔ اسی پیرائے میں جرمنی کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کا ملک شامی امن مذاکرات میں کرد جماعتوں کی شرکت کا خواہش مند ہے۔