.

شامی صدر کو دست برداری کی اہمیت سے آگاہ کرنے کا خفیہ مشن

اسد کو روسی جنگی انٹیلی جنس کے سربراہ سے بدترین جملہ سننا پڑا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رواں ماہ 3 جنوری کو اپنی وفات سے چند ہفتے قبل روس کی ملٹری انٹیلجنس کے ڈائریکٹر، جنرل ایگور سرگون کو ایک حساس مشن پر دمشق بھیجا گیا۔ روسی صدر کی جانب سے سرگون کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ بشار الاسد کو اس بات سے آگاہ کردیں کہ کرملین کا خیال ہے کہ اب ان کو دست بردار ہوجانا چاہیے۔ تاہم شامی صدر نے اس پیش کش کو غصے کے ساتھ مسترد کردیا۔ یاد رہے کہ ایگور سرگون نے ماضی میں شامی دارالحکومت میں سابق سوویت یونین کے ایجنٹ کے طور پر طویل وقت گزارا تھا۔

برطانوی اخبار "فنانشل ٹائمز" نے جمعہ کے روز ماسکو میں دو سینئر انٹیلجنس اہل کاروں کے حوالے سے اس خبر کو نمایاں طور پر شائع کیا تھا۔ اخبار نے اس سلسلے میں روسی وزارت خارجہ کا موقف جاننے کی کوشش کی تو اس نے وزارت دفاع کی طرف ٹال دیا۔ روسی وزارت دفاع نے اپنے طور پر اس خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا تاہم کرملین نے اخبار میں شائع ہونے والے تمام متن کی مکمل تردید کردی۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق "ٹاس" نیوز ایجنسی نے کرملین کے ترجمان دیمتری بیسکووف کا بیان جاری کیا ہے کہ "نہیں... ایسا نہیں ہوا"۔

"ماسکو حکومت خطے میں بڑھتے ایرانی رسوخ سے تنگ ہے"

برطانوی اخبار کے مطابق سرگون کی جانب سے پیش کی جانے والی تجویز میں اقتدار کی ایسی منظم منتقلی شامل تھی جو علوی حکومت کو تحفظ فراہم کرے۔ تاہم اس سے اعتدال پسند انقلابیوں کے ساتھ حقیقی مذاکرات کا دروازہ بھی کھل جائے، جس کے ذریعے 2015 کے اواخر میں مغربی انٹیلجنس ایجنسیوں کے پر امید موڈ میں مزید چمک پیدا ہوجاتی۔

جہاں تک امریکا کے زیرقیادت داعش سے نبرد آزما اتحاد کی بات ہے، تو ایسا نظر آتا ہے کہ ماسکو حکومت کو موافق بنانے سے بشار الاسد کی اقتدار سے علاحدگی کے حوالے سے برسوں سے جاری سفارتی ڈیڈلاک ٹوٹ سکتا ہے۔ اس اقدام کو واشنگٹن حکومت شام اور عراق میں فرقہ وارانہ کشیدگی ختم کرنے کے لیے اولین شرط کے طور پر دیکھتی ہے۔

"فنانشل ٹائمز" نے ایک یورپی انٹیلجنس اہل کار کے حوالے سے بتایا ہے کہ روسی صدر پیوتن نے شامی حکومت کے خول کے اندر جھانک کر دیکھا تو انہیں ان سے کہیں زیادہ مشکلات نظر آئیں جن کے لیے وہ سودے بازی کررہے تھے۔ اہل کار کا کہنا تھا کہ روس نے اپنے کردار کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دے دی، اور بشار الاسد نے سرگون کو آگاہ کردیا کہ " ان کے صدر نہ رہنے کی صورت میں شام میں روس کا کوئی مستقبل نہیں ہوگا"۔ کرملین کے ساتھ معاملہ بندی میں شامی صدر نے یہ حکمت عملی اپنائی کہ ایک بیرونی طاقت کو دوسری طاقت سے بھڑوا دیا جائے۔ اس صورت میں ایران کو روس کے سامنے کردیا گیا۔ دریں اثنا ماسکو حکومت اپنے کھاتے پر خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے رسوخ سے تنگ ہے۔

اخبار نے شامی حکومت کے قریبی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ روس کے ارادوں کے حوالے سے دمشق حکومت کے اوہام میں اضافہ ہورہا ہے۔ دمشق کی ایک کاروباری شخصیت کا کہنا ہے کہ "ابتدا میں روس کی مداخلت پر پیدا ہونے والے فرط مسرت کے جذبات کچھ ہی عرصے میں دم توڑ گئے اور پھر لوگ ناامید ہونا شروع ہوگئے"۔

"شام میں روسی مداخلت بشار الاسد کو اقتدار میں باقی رکھنے کے لیے نہیں"

"فنانشل ٹائمز" کے مطابق بشار الاسد ہمیشہ سے اس بات کے خواہش مند رہے کہ ہر اس با اثر شخصیت سے چھٹکارا پالیا جائے جو کبھی بھی ان کا نعم البدل بن سکتی ہو۔ اوکلاہوما یونی ورسٹی میں شامی امور کے محقق جوشیا لینڈس نے بتایا کہ اس سلسلے میں عبدالعزیز الخير کی مثال منہ بولتا ثبوت ہے۔ الخیر ملک میں جمہوری تبدیلی لانے کے لیے نیشنل کوآرڈینیٹنگ باڈی کے اہم رکن تھے۔ وہ 2012 میں روس اور اس کے بعد چین گئے۔

سب لوگوں پر یہ بات واضح تھی کہ الخیر موجودہ حکومت کی جگہ لینے کے لیے بہترین آپشن ہیں، جس پر علوی کمیونٹی بھی متفق ہوجاتی۔

انسانی حقوق کی شامی رصدگاہ کے مطابق شامی فضائیہ کی انٹیلجنس کے اہل کاروں نے الخیر اور ان کے دو ساتھیوں کو واپسی پر ایئرپورٹ سے دمشق آتے ہوئے گرفتار کرلیا۔ یہ اس جانب اشارہ تھا کہ بشار الاسد ماسکو حکومت کو اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ان کا نعم البدل چنے۔

"فنانشل ٹائمز" نے کارنیگی ماسکو سینٹر کے سربراہ ڈميٹری ٹرینن کے حوالے سے بتایا کہ" میں سمجھتا ہوں کہ صدر پیوٹن کے لیے شام میں روسی مداخلت کا مقصد بشار الاسد کو اقتدار میں رکھنا نہیں تھا، بلکہ اس کا مقصد امریکیوں کے سامنے اس تنازع کے حل میں روس کے مرکزی کردار کو تسلیم کرانا تھا، اور ویانا کارروائی کے ذریعے اس کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ تاہم شام میں انقلاب کا خاکہ تیار کرنا قبل از وقت ہوگا، مجھے نہیں نظر آتا کہ یہ کس طرح سیاسی عمل میں معاون ثابت ہوگا جب تک کہ اپوزیشن میں اتنے کافی لوگ نہیں ہیں جو صرف سربراہ حکومت کے بدلنے کی صورت میں حکومت قبول کرسکیں"۔