.

لیبیا میں داعش مخالف آپریشن کیا جائے: امریکی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی فوجی عہدیدار کا کہنا ہے کہ لیبیا میں انتہاپسند گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام [داعش] کو روکنے کے لئے اس کے خلاف فیصلہ کن فوجی ایکشن کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ داعش لیبیا سے بر اعظم افریقہ میں گروپ کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا چاہتی ہے۔

امریکی چئیرمین آف جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ کا کہنا ہے کہ مجھے لیبیا میں داعش کے پھیلائو سے کئی خدشات ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ فوجی لیڈران امریکی وزیر دفاع اور صدر کے اتنے احسان مند ہیں کہ وہ لیبیا میں داعش کے توسیع پسند عزائم کو روک سکیں۔"

پیرس میں صحافیوں کے ایک گروپ سے بات کرتے ہوئے جوزف کا کہنا تھا کہ "ہمیں لیبیا میں داعش کی توسیع کو روکنے کے لئے فیصلہ کن فوجی آپریشن کرنا ہوگا اور اس آُپریشن کو ایسے انداز سے کرنا ہوگا شام میں سیاسی عمل کو دیر پاء استحکام ملے۔"

دریں اثناء لیبیا کے شمالی حصے میں تیل کی تنصیبات پر شدت پسندوں کے حملے کی وجہ سے لگنے والی آگ کو دوسرے دن بھی بھجانے کی کوششیں جاری ہیں۔

راس لنوف کے علاقے کے ایک سیکیورٹی عہدیدار کے مطابق "بیس لاکھ بیرل خام تیل رکھنے والے چار سٹوریج ٹینک کو آگ لگی ہوئی ہے۔ ایک ٹینک میں آگ بے قابو ہے اور وہ کسی بھی موقع پر تباہ ہوسکتا ہے۔ ہم دیگر دوسرے ٹینکوں سے آگ بجھانے کی کوشش کررہے ہیں۔"

لیبیا کی سرکاری ایجنسی "لانا" کے مطابق داعش کے جنگجو اس حملے کے پیچھے کار فرما تھے اور یہ سٹوریج ٹینگ حروج آئل آُپریشنز نامی کمپنی کی ملکیت ہیں۔

لیبیا کی بین الاقوامی طور پر تسلیم کردہ حکومت کے ایک ترجمان نے بتایا کہ حکومت بین الاقوامی برادری سے آئل فیلڈز کی حفاظت کے لئے محدود تعاون کی درخواست کی ہے کہ تاکہ داعش کے حملوں کا مقابلہ کیا جاسکے۔