.

نیٹو : داعش کے خلاف "اواکس" طیاروں کے استعمال کی درخواست پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برسلز میں شمالی اوقیانوسی معاہدے کی تنظیم کے ایک ذمہ دار کے مطابق نیٹو کو "داعش" تنظیم کے خلاف "اواکس" طیارے استعمال کرنے کے لیے ایک درخواست موصول ہوئی ہے، اور رکن ممالک کی جانب سے درخواست پر "بحث" جاری ہے۔

نیٹو کے ذمہ دار نے ایک فرانسیسی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ "ہمیں موصول ہونے والی درخواست میں اواکس نوعیت کے جاسوس طیاروں کو بھیجے جانے کے ذریعے داعش تنظیم کے خلاف جاری کوششوں کے لیے شمالی اوقیانوسی اتحاد کی بھرپور سپورٹ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اور اتحاد کے رکن ممالک اس پر غور کررہے ہیں۔"

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ درخواست امریکا کی جانب سے پیش کی گئی ہے۔

دوسری جانب ایک امریکی سفارت کار نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ "وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے حالیہ دنوں میں بین الاقوامی اتحاد میں شامل تمام ارکان کو خطوط بھیجے ہیں۔ ان میں نیٹو کو (جس کے 28 ممالک بین الاقوامی اتحاد میں شریک ہیں) بھیجے گئے خط میں زور دیا گیا ہے کہ اضافی کوششوں کے سلسلے میں نیٹو کی جانب سے کام میں لائے جانے والے ممکنہ وسائل پر بحث کا آغاز کیا جائے"۔

واضح رہے کہ ابھی تک 60 سے زیادہ ملکوں پر مشتمل بین الاقوامی اتحاد کی کارروائیوں میں نیٹو کا کوئی براہ راست کردار نہیں ہے۔

کئی سفارتی ذرائع کے مطابق، "داعش" کے خلاف جاری کارروائی میں "براہ راست شرکت" کے حوالے سے نیٹو کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ ایک سفارتی ذریعے نے بتایا کہ نیٹو "عراق اور شام اواکس طیارے نہیں بھیجے گا"۔ نیٹو کے رکن ممالک اس امکان پر غور کررہے ہیں کہ (نیٹو کے) جاسوس طیارے امریکی سرزمین پر بھیجے جائیں، جس کے بعد امریکیوں کے لیے یہ ممکن ہو کہ وہ اپنے پاس موجود "اواکس" طیارے شام اور عراق میں بین الاقوامی اتحاد کے حملوں میں شرکت کے لیے روانہ کریں۔