.

شام کے متحارب دھڑوں کو جنیوا مذاکرات میں شرکت کی دعوت

ترکی نے کرد جماعت کی شام امن عمل میں شرکت کی مخالفت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ نے شامی حکومت اور حزب اختلاف کو آیندہ جمعہ کو جنیوا میں شروع ہونے والے امن مذاکرات میں شرکت کے لیے دعوت نامے جاری کردیے ہیں۔

اقوام متحدہ کی جانب سے منگل کے روز جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ''خصوصی ایلچی برائے شام مسٹر اسٹافن ڈی مستورا نے آج 26 جنوری کو شامی شرکاء کو اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 2254(2015) کے پیرامیٹرز کے تحت دعوت نامے بھیج دیے ہیں۔شام فریقوں کے درمیان مذاکرات 26 جنوری کو جنیوا میں شروع ہوں گے''۔

بیان میں مذاکرات میں مدعو شامی گروپوں یا شخصیات کی تفصیل نہیں بتائی گئی ہے۔البتہ روس جن شخصیات کو امن مذاکرات میں شرکت کی دعوت دینے پر اصرار کررہا تھا،ان میں سے دو نے دعوت نامے ملنے کی تصدیق کردی ہے۔

صدر شامی تحریک برائے اثباتیت معاشرہ رندا قسیس نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ''مجھے ،ہیثم منعا ،صالح مسلم ،الہام احمد اور قدری جمیل کو انفرادی حیثیت میں مذاکرات میں مدعو کر لیا گیا ہے''۔

صالح مسلم شامی کرد جماعت ڈیموکریٹک یونین پارٹی (پی وائی ڈی) کے لیڈر ہیں۔ان سے جب رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ مجھے ابھی دعوت نامہ موصول نہیں ہوا ہے۔ہیثم منعا نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے دعوت نامہ ملنے کی تصدیق کردی ہے۔

ترکی کی مخالفت

قبل ازیں ترکی نے ڈیموکریٹک یونین پارٹی کی جنیوا میں اسی ہفتے شام میں جاری بحران کے حل کے لیے شروع ہونے والے مذاکراتی عمل میں شرکت کی شدید مخالفت کردی ہے۔

ترک وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے پارلیمان میں حکمراں جماعت انصاف اور ترقی پارٹی (اے کے) سے تعلق رکھنے والے ارکان سے خطاب میں کہا ہے کہ ''ہم وائی پی جی اور پی وائی ڈی کے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے سخت خلاف ہیں''۔

ترکی پی وائی ڈی اور اس کے عسکری ونگ پیپلز پروٹیکشن یونٹس (وائی پی جی) کو کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) ہی کا حصہ سمجھتا ہے۔پی کے کے کے جنگجوؤں نے ترکی کے جنوب مشرقی علاقوں میں علاحدگی کے لیے مسلح بغاوت برپا کررکھی ہے اور ان کے خلاف ترک فورسز نبرد آزما ہیں۔ترکی ،امریکا اور یورپی یونین نے پی کے کے کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔

درایں اثناء شامی حزب اختلاف کی کونسل نے جنیوا میں آیندہ جمعہ کو شروع ہونے والے مذاکرات کے بارے میں اپنے شکوک کا اظہار کردیا ہے۔شامی اپوزیشن نے اقوام متحدہ کی بحران کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کے حوالے سے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اس نے امریکا پر الزام عاید کیا ہے کہ اس نے اب تنازعے کے حل کے لیے ایران اور روس جیسا موقف اختیار کر لیا ہے۔

شامی حزب اختلاف کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ اسعد الزوبی نے العربیہ کے الحدث نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ بات چیت کے بارے میں کوئی زیادہ پُرامید نہیں ہیں۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ جنیوا عمل میں شرکت کے بارے میں الریاض میں اجلاس میں فیصلہ کیا جائے گا۔

ادھر فرانس کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ الریاض میں گذشتہ ماہ قائم ہونے والی شامی حزب اختلاف کی قومی کونسل کو بشارالاسد کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کی قیادت کرنی چاہیے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان رومین ندال نے پیرس میں اپنی روز کی نیوزبریفنگ کے دوران کہا کہ ''شامی حزب اختلاف کے اس گروپ میں سیاسی اور غیرجہادی فوجی عناصر شامل ہیں،اس لیے اسی کو رجیم کے ساتھ مذاکرات کرنے چاہییں''۔

ان سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا کرد جنگجوؤں کو مذاکرات کا حصہ ہونا چاہیے۔اس سے قبل روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے ماسکو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کردوں کو جنیوا مذاکرات کا حصہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔