.

لاطینی امریکا میں خطرناک ایرانی سازشوں کا انکشاف

حزب اللہ ایجنٹ کا ایران دشمن ملکوں کی معلومات جمع کرنے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دوسرے ممالک میں ایران کی غیرقانونی مداخلت کی خبریں کوئی نئی بات نہیں۔ خلیجی ممالک سے افریقا تک اور مشرق وسطیٰ سے لاطینی امریکا تک ایران کی خطرناک سازشوں کا وسیع جال بچھا ہوا ہے۔ آئے روز ایران کی دوسرے ملکوں میں مداخلت کی مصدقہ خبریں میڈیا کی زینت بنتی ہیں۔

حال ہی میں لندن سے شائع ہونے والے پین روزنامہ ’’الشرق الاوسط‘‘ نے اپنی رپورٹ میں لبنانی ایران نواز شیعہ تنظیم حزب اللہ کے ایک ’ٹاؤٹ‘ کا حوالہ دیا ہے جس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ لاطینی امریکا سمیت کئی دوسرے خطوں کے ایران دشمن ملکوں کے بارےمیں معلومات جمع کرتا رہا ہے۔

مبصرین نے حزب اللہ ایجنٹ کےدعوے کو موجودہ حالات کے تناظر بالخصوص شام میں روس کی فوجی مداخلت کے تناظر میں نہایت خطرناک قرار دیا ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ جب سے روس نے شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں اپنی فوج اتاری ہے اس کے بعد سے اسد رجیم کو حزب اللہ کے جنگجوؤں کی زیادہ ضرورت پیش نہیں آ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حزب اللہ نے بھی اپنی زیادہ توجہ لاطینی امریکا پر مرکوز کر دی ہے اور وہ ایران کی معاونت سے اب لاطینی امریکا میں اپنی سازشوں کے جال بُن رہی ہے۔

ارجنٹائن کی بونس آئرس یونیورسٹی سے وابستہ مشرق وسطیٰ کے امور کے تجزیہ کار جارج شایا کا کہنا ہے کہ شام میں روسی فوج کی مداخلت اور بڑی تعداد میں ایرانی فوج کی وہاں موجودگی کے بعد حزب اللہ کو اپنے جنگجوؤں کو ریلیف دینے کا ایک نیا موقع ہاتھ آیا ہے اور اس نے اپنی توجہ شام کے محاذ کے بجائے لاطینی امریکا دوسرے خطوں پر مرکوز کر دی ہے۔

اخباری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حال ہی میں میکسیکو اور کینیڈا کے انٹیلی جنس اداروں نے مشترکہ طور پر ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ لاطینی امریکا کے ملکوں میں ایران نواز حزب اللہ کی سرگرمیوں میں غیرمعمولی اضافہ ہو چکا ہے۔ حزب اللہ کے ایجنٹ براعظم کے جنوبی ملکوں یہاں تک کے بارگوائے، ارجنٹائن اور برازیل تک حزب اللہ کے ایجنٹ سرگرم عمل ہیں۔

’’الشرق الاوسط‘‘ کی رپورٹ میں دونوں ملکوں کے انٹیلی جنس کے سابق عہدیداروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے لاطینی امریکا میں ایران اور حزب اللہ کی سرگرمیوں کو باریکی سے مانیٹر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان ملکوں میں ’’جماعت عباس موسوی‘‘ اور جماعت عماد مغنیہ کے ناموں سے گروپ سرگرم ہیں۔ ان دونوں گروپوں کا اصل ہدف اور مقصد ایران مخالف ملکوں کے بارے میں معلومات جمع کرنا ہے۔

مبصرین نے لاطینی امریکا میں ایران کی مداخلت اور حزب اللہ کی سرگرمیوں کے تازہ حقائق کو نہایت خطرناک قرار دیا ہے۔ خاص طور پر جب سے میکسیکو کی حکومت نے ایک لبنانی کو جعلی دستاویزات کے کیس میں حراست میں لیا ہے یہ قیاس زیادہ تقویت پکڑ چکا ہے کہ ایران اور حزب اللہ نے لاطینی امریکا میں بڑی تعداد میں اپنے ایجنٹ جعلی دستاویزات کے ذریعے پہنچا رکھے ہیں۔