.

پابندیاں ختم ہونے کے باوجود یورپی بینک ایران سے معاملات میں خائف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مغربی ممالک کے ساتھ نیوکلیئر معاہدہ طے پانے کے بعد تہران پر سے پابندیاں اٹھانے کے اعلان کے باوجود عالمی بالخصوص یورپی بینکوں نے ایران کے ساتھ معاملات کے حوالے سے اپنے اندیشوں کا اظہار کیا ہے۔ خاص طور پر پاسداران انقلاب کے ادارے سے مربوط کمپنیوں کے ساتھ جن کا ایرانی معیشت کے بڑے حصے پر کنٹرول ہے۔

جرمن ویب سائٹ ڈوئچے ویلے کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یورپی بینکوں کا خوف درحقیقت ان کمپنیوں کے ساتھ مالی لین دین سے متعلق ہے جو خفیہ طور پر پاسداران انقلاب کے زیرانتظام ہیں۔ اگرچہ یہ بینک ابھی تک پابندیاں اٹھائے جانے کے اس فیصلے کی تفصیلات کے منتظر ہیں جو 17 جنوری سے نافذ العمل ہے۔ "جرمن بینکس ایسوسی ایشن " (BdB) کی جانب سے بھی تفصیلات کے منتظر ہونے کے اعلان کے بعد مالیاتی اداروں میں ذمہ داران کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ بہت احتیاط سے معاملات کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے دہشت گردی کی سپورٹ سے متعلق پابندیاں ابھی تک جاری ہیں اور پابندیاں اٹھائے جانے کے فیصلے میں یہ پابندیاں شامل نہیں۔

یورپی مالیاتی اداروں کو یہ بھی خوف ہے کہ ایران کی جانب سے نیوکلیئر معاہدے کی شرائط پر پوری طرح عمل درامد نہ ہونے کی صورت میں تہران حکومت کے خلاف پھر سے سخت سرزنش کے اقدامات اٹھائیں جائیں گے۔ "جرمن بینکس ایسوسی ایشن" کے ترجمان نے اس اندیشے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ "مکمل طور پر پابندیاں اٹھائے جانے کی صورت میں بھی ایران کے ساتھ معاملات خطرے سے خالی نہیں"۔

نیوکلیئر معاہدے کی شرائط پر عمل درامد کے سلسلے میں دنیا کے بڑے ملکوں ایران پر عائد پابندیوں کے اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم ان ملکوں کے بینک ایران کی طرف لوٹنے کے سلسلے میں خوف کا شکار ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان بینکوں کو ماضی میں عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کی وجہ سے بڑے مالی جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جرمنی کے دوسرے بڑے بینک "كومرز بینک" کو گزشتہ مارچ میں تہران کے ساتھ معاملات کرنے کی پاداش میں 1.45 ارب ڈالر مالی جرمانہ ادا کرنا پڑا۔ مبصرین کے مطابق یہ رقم بینک کے سالانہ منافع سے 5 گنا زیادہ رقم کے برابر تھی۔ دوسری جانب جرمن ڈوئچے بینک نے، جو شام اور ایران کے خلاف عائد امریکی اقتصادی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے پر پہلے ہی 26 کروڑ ڈالر کی ادائیگی کرچکا ہے، اعلان کیا ہے کہ وہ ان دنوں ایران کے ساتھ مالی معاملات سے گریز کر رہا ہے۔

دیگر بینک زیادہ خوف کا شکار

ایران کے ساتھ مالیاتی تعلقات قائم کرنے کے حوالے سے احتیاط صرف جرمن بینکوں تک محدود نہیں بلکہ جرمن رپورٹ کے مطابق تمام ہی یورپی بینک ایرانی منڈیوں کی جانب واپسی کے سلسلے میں انتہائی محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔

ہوسکتا ہے کہ فرانسیسی بینک "BNP Paribas" دیگر یورپی بینکوں کے مقابلے میں زیادہ خوف کا شکار ہو، اس لیے کہ ایران اور دیگر ملکوں پر عائد امریکی پابندیوں کے نظام کی خلاف ورزی کرنے پر وہ گزشتہ اکتوبر میں امریکی حکام کو 8.9 ارب ڈالر جرمانہ ادا کرنے پر مجبور ہوچکا ہے۔ فرانسیسی بینک میں ذمہ داران کی جانب سے "فنانشل ٹائمز" اخبار کو دیے گئے بیانات میں واضح کیا گیا ہے کہ یورپی بینکوں کے ایران کے ساتھ مالی معاملات پر عمل درامد میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

دوسری جانب پاسداران انقلاب اور ایرانی معیشت میں اس کا کردار، عالمی بینکوں کے خوف اور اندیشوں میں اضافے کی ایک اہم وجہ ہے۔ بالخصوص جب کہ آخری چند برسوں میں ایرانی منڈیاں اس فوجی ادارے کے زیرکنٹرول آ گئی ہیں۔