.

یواے ای : داعش کے مقامی امیر کے خلاف مقدمے کی سماعت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات میں سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) کے مقامی خود ساختہ امیر کے خلاف وفاقی عدالتِ عظمیٰ میں مقدمے کی سماعت شروع ہوگئی ہے۔اس اماراتی پر دارالحکومت ابوظبی میں فارمولا 1 سرکٹ سمیت مختلف اہداف پر حملوں کی سازش کا الزام ہے۔

استغاثہ کے ایک گواہ نے منگل کے روزعدالت کو بتایا ہے کہ اس اماراتی شخص اور اس کی بیوی نے سوشل میڈیا کے ذریعے داعش کے خلیفہ ابو بکرالبغدادی کی بیعت کی تھی۔
اس گواہ نے مزید بتایا کہ اس مدعا علیہ کے کمپیوٹر میں ابوبکر البغدادی اور عراق میں القاعدہ کے سابق سربراہ ابو مصعب الزرقاوی کی تقاریر موجود تھیں اور وہ ان کو نوجوانوں کو جہادی نظریے سے متعارف کرانے اور بھرتی کرنے کے لیے استعمال کیا کرتا تھا۔

یادرہے کہ اس اماراتی شخص کی بیوی علاء بدرالہاشمی نے امریکی اسکول ٹیچر آئیبولیا ریان کو دسمبر 2014ء میں ابوظبی شاپنگ مال کے ایک واش روم میں چاقو کے پے درپے وار کرکے قتل کردیا تھا۔قاتلہ کو عدالت نے قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی اور اس کو گذشتہ سال جولائی میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔

اس ملزم نے ''میڈیا بٹالین'' کے نام سے ایک ویب سائٹ بھی بنا رکھی تھی اور اس کے ذریعے دہشت گرد تنظیموں کے دہشت گردی کے نظریے کی تشہیر کی جاتی تھی۔ایک اور گواہ نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے بتایا ہے کہ مدعا علیہ کے کمپیوٹرز میں ایسے سوفٹ وئیر بھی انسٹال تھے جہاں لاگ ان ہونے والوں کو دھماکا خیز بنانے اور شاپنگ مال ،فوجی تنصیبات پر حملوں اور کسی لیڈر کو قتل کرنے کے طریقے سکھائے جاتے تھے۔

ایک مقامی روزنامے کے مطابق اس گواہ نے عدالت کو بتایا کہ اس شخص اور اس کی بیوی نے داعش کے خلیفہ ابوبکر البغدادی کی بیعت کے لیے باقاعدہ ایک علامتی تقریب منعقد کی تھی۔واضح رہے کہ اس مقدمے کی سماعت کے وقت بین الاقوامی میڈیا کو عدالت میں آنے کی اجازت نہیں تھی۔

اس چونتیس سالہ شخص پر داعش میں شمولیت ،ابوظبی فارمولا 1 سرکٹ پر حملے کی سازش ،فرنیچر چین آئیکیا کی شاخ پر حملے کی منصوبہ بندی اور اماراتی لیڈروں کو قتل کرنے کی سازش کے الزامات میں فردِ جُرم عاید کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد میں شامل ہے اور اس کے لڑاکا طیارے بھی ستمبر 2014ء سے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں۔یو اے ای نے اسلام پسندوں کے حوالے سے سخت موقف اختیار کررکھا ہے اور گذشتہ ڈیڑھ ایک سال کے دوران اخوان المسلمون، القاعدہ یا ان سے وابستہ گروپوں سے تعلق کے الزام میں بیسیوں افراد کو لمبی مدت کی قید اور جرمانے کی سزائیں سنائی جاچکی ہیں۔