.

مسلک، سیاسی نظریات ایران میں پھانسی کی سزاؤں کے محرکات

رہائی پانے والے پادری کا اپنے ساتھ بدسلوکی کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اور امریکا کے درمیان حال ہی میں ہونے والے قیدیوں کے تبادلے کے ایک سمجھوتے کے تحت رہا ہونے والے امریکی نژاد پادری نے ایام اسیری کے مشاہدات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی حکومت اہل سنت مسلک کے لوگوں کو ان کےعقیدے اور سیاسی نقطہ نظر کی پاداش میں انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بناتی اور انہیں پھانسی کی اجتماعی سزائیں دینے کی حکمت عملی پرعمل پیرا ہے۔

امریکی ٹیلی ویژن ’’فاکس نیوز‘‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں رہا ہونے والے پادری سعید عابدینی نے بتایا کہ انہیں ایران میں ایک مذہبی رہ نما کی پاداش میں حراست میں لیا گیا۔ اسیری کے پورے عرصے کے دوران اسے انواع واقسام کے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ انہوں نے بتایا کہ جیلوں میں ڈالے گئے دوسرے مذاہب اور مسالک کے لوگوں کے ساتھ یکساں بدسلوکی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں عابدینی نے بتایا کہ اس کے سامنے کئی بار اہل سنت مسلک کے قیدیوں کو اجتماعی طور پر موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ بیشتر قیدیوں کو یا تو ان کے اہل سنت مسلک کے عقیدے یا ان کے سیاسی افکار کی پاداش میں پھانسی چڑھا دیا جاتا رہا ہے۔

ایام اسیری کے مشاہدات بیان کرتے ہوئے انہوں نے اپنے ساتھ برتے جانے والے وحشیانہ سلوک کا بھی تفصیلی احوال بیان کیا۔ سعید عابدینی نے بتایا کہ جیل میں ایرانی تفتیش کار اسے اکثر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بناتے۔ ایک بار کمرہ عدالت میں پیشی کے موقع پر بھی اسے اس وقت سرعام تشدد کا نشانہ بنایا گیا جب نے ایرانی تفتیش کاروں کی جانب سے تحریر کردہ نام نہاد الزامات کے ایک کاغذ پر دستخط کرنے کو کہا اور میں نے انکار کر دیا۔ اس پرمجھے بھرے مجمع میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ مجھ پر ایسا تشدد کیا گیا کہ میرا معدہ بھی پھٹ گیا اور مجھے خون کی قے شروع ہو گئی تھی۔

خیال رہے کہ سعید عابدینی نامی عیسائی پادری تین سال تک ایران میں پابند سلاسل رہے۔ مگر ان انہیں ایرانی حکومت کی جانب سے قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے الزام میں آٹھ سال قید کی سزاسنائی گئی تھی۔ حال ہی میں امریکا اور ایران کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے دوران انہیں بھی رہا کر دیا گیا۔

عابدینی کو سنہ 2012ء میں اس وقت جیل میں ڈالا گیا جب وہ امریکا کے سفر سے واپس تہران پہنچے تھے۔ امریکا میں اپنے والدین سے ملاقات کے بعد تہران واپس لوٹتے ہی پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا تھا۔

حال ہی میں امریکا اور ایران کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے ایک سمجھوتے کے تحت انہیں تین دوسرے امریکیوں کے ساتھ رہا کیا گیا تھا۔ان میں امیر حکمتی، جیسن رضایان اور نصراللہ خسرافی رودساری شامل ہیں۔ اس کے بدلے میں امریکا نے ایران کے ساتھ قیدیوں کو رہا کیا تھا۔ انہیں ایران کے لیے جاسوسی اور عالمی پابندیوں کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔