.

"بین کی مون دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں"

اسرائیلی وزیر اعظم کو اقوام متحدہ کے سربراہ کی تقریر ہضم نہ ہوسکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن #نیتن_یاہو نے #اقوام_متحدہ کے سربراہ بین کی مون پر 'دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کرنے کا الزام لگایا ہے۔ بین کی مون نے ایک بیان میں کہا تھا کہ فلسطینی شہری اسرائیلی تسلط سے پریشان ہیں اور ان کی مزاحمت فطری عمل ہے۔

نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا کہ "اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے بیان سے دہشت گردی کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے اور دہشت گردی کا کوئی جواز اسے درست ثابت نہیں کرسکتا۔"

بین کی مون نے سیکیورٹی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ "فلسطینی شہری بطور خاص نوجوانوں میں تنہائی اور مایوسی کے احساس نے اسرائیلی شہریوں پر حملوں کو مزید ہوا دی ہے۔ نصف صدی سے قابض افواج تلے پسنے والے فلسطینی شہری امن عمل کے منجمد ہونے کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہیں۔"

ان کا مزید کہنا تھا "جیسا کہ تارِیخ میں دیکھا گیا ہے کہ قابض اقوام کے تسلط میں رہنے والے لوگ فطری طور پر مزاحمت کرتے ہیں جو کہ عام طور پر نفرت اور شدت پسندی کی پرورش میں مدد دیتی ہے۔"

بین کی مون نے فلسطینیوں کی جانب سے حملوں کی مذمت کی مگر ان کا کہنا تھا کہ یہودی آبادکاری کے منصوبوں سے اسرائیل کے دو ریاستی حل کے وعدے پر شکوک بڑھ رہے ہیں۔

نیتن یاہو نے بین کی مون کے بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی دو ریاستی حل کے لئے کام نہیں کررہے ہیں۔ نیتن یاہو کا کہنا تھا "فلسطینی قاتل، ریاست نہیں بنانا چاہتے ہیں، وہ ریاست کو تباہ کرنا چاہتے ہیں اور اس کا اعلان ببانگ دہل کرتے ہیں۔"

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ "وہ دنیا بھر میں یہودیوں کو قتل کرنا چاہتے ہیں اور وہ اعلانیہ ایسا کہتے ہیں۔ وہ امن کے لئے قتل نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی انسانی حقوق کے لئے۔"