.

حزب اللہ کے ارکان اور ایرانیوں کی لاطینی پاسپورٹ پر آزادانہ نقل و حرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی تنظیم حزب اللہ اور دہشت گردی کے زیر الزام ایرانی جماعتوں کے ارکان لاطینی ملکوں کے اصلی پاسپورٹ استعمال کرتے ہوئے مکمل آزادی کے ساتھ امریکا، یورپ اور لاطینی امریکا کے ملکوں کا سفر کرتے پھر رہے ہیں۔ ان عناصر کے پاس عام طور پر وینزویلا، ایکواڈور وغیرہ کے پاسپورت ہوتے ہیں۔

اس کے پیچھے راز یہ ہے کہ وینزویلا، ارجنٹائن اور ایکواڈور جیسے ملکوں نے کیوبا کی کمپنیوں کے ساتھ بائیومیٹرک پاسپورٹ جاری کرنے کا کنٹریکٹ کیا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ان کمپنیوں کو حاصل ہونے والا ڈیٹا بینک مذکورہ ممالک کے 8 کروڑ کے قریب شہریوں کے نام اور معلومات پر مشتمل ہے۔

عربی روزنامے الشرق الاوسط میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کینیڈا اور بلغاریہ میں انٹیلجنس اداروں نے حال ہی میں عرب نژاد باشندوں بالخصوص حزب اللہ کے کارکنوں اور ایرانی عناصر کی وینزویلا کے اصلی پاسپورٹ کے ساتھ نقل وحرکت کا نوٹس لیا ہے۔

دوسری جانب وینزویلا کے سابق وزیر داخلہ اینتھونی ڈیکین نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ ایران جیسے ملکوں کے شہریوں کی جانب سے وینزویلا کے پاسپورٹ استعمال کیے جانے کے بارے میں شکوک کا آغاز 10 برس سے بھی پہلے یعنی کہ سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے دور میں ہوا تھا۔

اس کے نتیجے میں واشنگٹن میں قائم امریکی سیکورٹی اور دفاع کے امور کے خصوصی مرکز کی جانب سے جاری ہونے والے جائزے میں کہا گیا ہے کہ وینزویلا کی حکومت نے امریکا میں داخلے کی کوشش کرنے والے شدت پسندوں کو واقعتا پاسپورٹ، ویزے اور دیگر دستاویزات جاری کیے۔

اسی طرح رپورٹ میں ایران کے وینزویلا اور کیوبا کے ساتھ اس سلسلے میں سرکاری سطح پر تعاون کا بھی انکشاف کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی وینزویلا کے شامی نژاد وزیر داخلہ طارق العیسمی کے اس حوالے سے ادا کیے جانے والے کردار کی جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے تاکہ مشرق وسطیٰ کے بہت سے باشندے وینزویلا کا پاسپورٹ حاصل کرسکیں۔ اس کے نتیجے میں اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے نیٹ ورک وجود میں آئے۔