.

''داعش ترکی میں روسی سیاحوں کو اغوا کرسکتے ہیں''

ترکی جانے والے سیاح اپنے تحفظ کو یقینی بنائیں :روس کی سیاحتی ایجنسی کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کی وفاقی سیاحتی ایجنسی نے بدھ کے روز ایک انتباہ جاری کیا ہے کہ سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) ترکی میں روسی شہریوں کے اغوا کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔

اس ادارے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''مجاز ایجنسیوں کے مطابق دہشت گرد گروپ داعش کے لیڈر ترکی میں روسی شہروں کو یرغمال بنانے کی سازش کررہے ہیں۔ان یرغمالیوں کو شام میں داعش کے زیر قبضہ علاقوں میں منتقل کیا جاسکتا ہے اور وہاں انھیں عوامی مقامات پر داعش کے جنگجو تہ تیغ کرسکتے ہیں یا پھر وہ انھیں شامی حکومت یا اتحادی فورسز کے ساتھ لڑائی میں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں''۔

بیان میں ترکی کے سفر پر روانہ ہونے والے تمام آزاد سیاحوں کی توجہ اس جانب مبذول کرائی گئی ہے کہ وہ اپنے ذاتی تحفظ اور سلامتی کے لیے ضروری اقدامات کریں۔

واضح رہے کہ ترکی روسی سیاحوں کی کئی سال تک جائے منزل رہا ہے اور وہ وہاں تاریخی مقامات کی سیر کے لیے جاتے رہے ہیں لیکن گذشتہ سال نومبر میں شام کی سرحد کے نزدیک روس کے ایک لڑاکا طیارے کو مارگرائے جانے کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوچکے ہیں اور روس نے اپنے شہریوں کے سیاحت کے لیے ترکی جانے پر پابندی عاید کررکھی ہے۔

روس کے سرکاری ادارے کی جانب سے یہ نیا انتباہ اب تک ترکی میں موجود روسی سیاحوں کے لیے جاری کیا گیا ہے کیونکہ ماسکو نے ٹریول ایجنسیوں پر سیاحتی دورے منظم کرنے اور لوگوں کو ترکی لے جانے پر پہلے ہی پابندی عاید کردی تھی۔

روس نے ترکی پر اپنا لڑاکا طیارہ مارگرائے جانے کے بعد مختلف النوع پابندیاں عاید کردی تھیں۔اس نے ترکوں کے لیے دوبارہ انٹری ویزا متعارف کرایا تھا اور متعدد ترک مصنوعات کی درآمد پر پابندیاں عاید کردی تھیں۔