.

افغانستان میں امریکی فوج کے نئے کمانڈر کا تقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان نے افغانستان میں بین الاقوامی فوج کی قیادت کے لیے نئے کمانڈر کا تقرر کیا ہے اور لیفٹیننٹ جنرل جان میک نیکلسن اب جنگ زدہ ملک میں امریکی اور نیٹو فوج کی کمان سنبھالیں گے۔

امریکی سینیٹ سے اپنے تقرر کی توثیق کے بعد وہ جنرل جان کیمپبیل کی جگہ لیں گے۔امریکی وزیردفاع آشٹن کارٹر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''وہ مختصر سریع الحرکت فورس کی قیادت کا مطلب جانتے ہیں اور یہ بھی کہ ہمارے شراکت داروں کی فوری اور طویل المعیاد خطرات سے نمٹنے کے لیے کیسے صلاحیت کار کو بہتر بنایا جاسکتاہے''۔

امریکا اور نیٹو نے ایک سال قبل افغانستان میں اپنا جنگی مشن ختم کردیا تھا اور یہ ذمے داری افغان فورسز کو سونپ دی تھیں۔اب امریکا اور اس کی اتحادی فورسز افغان فورسز کو تربیت دینے اور انھیں طالبان اور دوسرے مسلح گروپوں سے نمٹنے کے لیے مسلح کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کررہے ہیں۔

طالبان نے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد سے افغان فورسز پر حملے تیز کررکھے ہیں اور چند ماہ قبل انھوں نے قندوز شہر پر مختصر وقت کے لیے قبضہ کر لیا تھا۔اب داعش کے سر اٹھانے کے بعد جنگ زدہ ملک کی سکیورٹی زیادہ پیچیدہ صورت حال اختیار کر چکی ہے۔داعش کے جنگجو اب پاکستان کی سرحد کے نزدیک واقع افغان صوبے ننگرہار میں اپنی عمل داری قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

صدر براک اوباما نے اکتوبر میں نو ہزار آٹھ سو فوجیوں کو 2016 کے اختتام تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔اس سے پہلے انھوں نے ایک ہزار امریکی فوجیوں کے انخلاء کا اعلان کیا تھا۔