.

امریکا کا لیبیا میں داعش کے خلاف فوجی آپشنز پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا خانہ جنگی کا شکار لیبیا میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے مختلف آپشنز پر غور کررہا ہے۔

پینٹاگان کے پریس سیکریٹری پیٹر کُک نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ''لیبیا میں داعش کی بڑھتی ہوئی موجودگی تشویش کا سبب ہے۔امریکا اس گروپ کے عراق اور شام سے در آنے والے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کے لیے غور کررہا ہے''۔

ترجمان نے کہا کہ ''ہم لیبیا میں صورت حال خراب ہونے کے بعد سے فوجی آپشنز پر غور کررہے ہیں۔ہم تیار رہنا چاہتے ہیں اور محکمہ دفاع لیبیا میں داعش کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر ہمیشہ تیار رہنا چاہتا ہے''۔

واضح رہے کہ لیبیا میں 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے۔سابق صدر کے خلاف مقامی لوگوں نے عرب بہاریہ تحریکوں سے متاثر ہوکر پُرامن احتجاجی تحریک شروع کی تھی لیکن نیٹو کی مداخلت کے بعد اس تحریک نے مسلح رُخ اختیار کر لیا تھا۔ نیٹو کے لڑاکا طیاروں کی لیبی فوج پر بمباری نے برسرزمین نقشہ تو تبدیل کردیا تھا اور لیبیا کے مزاحمتی گروپ قذافی حکومت اور ان کی باقیات کے خاتمے میں کامیاب ہوگئے تھے لیکن وہ اس کے بعد گذشتہ ساڑھے چار سال کے دوران ملک میں امن قائم نہیں کرسکے ہیں۔

اس دوران 2014ء کے وسط میں عراق اور شام میں داعش نے مسلح یلغار کرتے ہوئے بہت سے علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا اور پھر دوسرے ممالک میں بھی اپنے قدم جمانے شروع کردیے تھے۔لیبیا ان کے لیے لڑائی کا نیا میدان ٹھہرا اور انھوں نے وہاں دو متوازی حکومتوں اور ان کے تحت ملیشیاؤں کی باہمی آویزشوں سے فائدہ اٹھا کر دراندازی شروع کردی تھی۔

گذشتہ سال جون میں داعش کے جنگجوؤں نے لیبیا کے مشرقی شہر سرت پر قبضہ کر لیا تھا۔اس سے پہلے وہ اس شہر کے ہوائی اڈے اور نزدیک واقع ایک پاور پلانٹ پر قبضہ کرچکے تھے۔اس وقت لیبیا میں داعش کے مبینہ طور پر تین ہزار جنگجو موجود ہیں۔

امریکا عراق اور شام میں گذشتہ سترہ ماہ سے داعش کے خلاف جاری فضائی مہم کے بعد ایک تیسرے ملک میں اس مہم کو وسعت دینے میں متردد رہا ہے اور اس نے متعدد مرتبہ لیبیا میں داعش کے خلاف لڑائی کے لیے مقامی شراکت داروں کے تعاون کی بات کی ہے۔اس کا یہ مؤقف رہا ہے کہ فرانس اور اٹلی جیسے ممالک کو لیبیا میں داعش کے خلاف کسی کارروائی کی قیادت کرنی چاہیے۔

دسمبر میں پینٹاگان نے یہ تسلیم کیا تھا کہ لیبیا میں بھیجے گئے امریکا کے خصوصی آپریشنز دستوں کے ایک گروپ کو نکال باہر کیا گیا ہے۔ان خصوصی دستوں کو مقامی فورسز سے تعلقات کاری کے لیے بھیجا گیا تھا۔امریکا نے قبل ازیں لیبیا میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف بعض کارروائیاں کی ہیں اور نومبر میں اس کے ایک فضائی حملے میں داعش کا ایک سرکردہ لیڈر ابو نبیل مارا گیا تھا۔ابو نبیل عراقی تھا اور وہ وسام نجم عبد زید الزبیدی کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔