.

شام میں لڑنے کے لیے افغانیوں کو بلیک میلنگ کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے انکشاف کیا ہے ایرانی فوج نے نومبر 2013 سے اب تک ملک میں موجود ہزاروں افغان پناہ گزینوں کو کسی نامعلوم محاذ جنگ پر جھونکنے کے لئے بھرتی کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق ان میں درجنوں افراد کو زبردستی بھرتی ہونے پر مجبور کیا گیا۔

ہیومن رائٹس کے صدر دفترنیویارک سےگزشتہ روز جاری ہونے والی رپورٹ میں بتایا ہے کہ "اس نے 2015 کے اواخر میں ایران میں بسنے والے ان افغانیوں میں سے 20 کی شہادتیں جمع کیں۔ ان افراد نے انکشاف کیا کہ "شامی حکومت کی مددگار ملیشیاؤں میں شامل ہونے کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں مالی رقوم اور قانونی قیام کی پیش کش کی گئی"۔

رپورٹ میں بعض افراد کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ "انہیں یا ان کے عزیز و اقارب کو #شام میں لڑنے پر مجبور کیا گیا۔ اس پر وہ وہاں سے یونان فرار ہوگئے یا پھر انکار کی وجہ سے انہیں #افغانستان بھیج دیا گیا۔ دیگر افراد مذہبی وجوہات کے سبب یا پھر ایران میں قیام کی قانونی حیثیت حاصل کرنے کے لیے، شام میں رضاکارانہ طور پر لڑنے کے لیے تیار ہوگئے۔"

ان افراد کا کہنا ہے کہ #پاسداران_انقلاب ہی بھرتی کے فرائض سرانجام دیتی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے ایک ذمہ دار پیٹر بوکائرٹ نے رپورٹ میں بتایا کہ "ایران اپنے یہاں موجود افغان مہاجرین کو شام میں لڑنے کے لیے صرف مراعات کی پیش کش نہیں کی بلکہ ان میں بہت سوں نے بتایا کہ انہیں دھمکی دی گئی کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں انہیں افغانستان بھیج دیا جائے گا۔ اس خطرناک اختیار کو دیکھ کر ان میں سے بعض افغان یورپ فرار ہوگئے."

یاد رہے کہ افغانستان میں لڑائی اور جور و ستم سے بھاگ کر اس وقت تقریبا 30 لاکھ افغانی ایران میں رہ رہے ہیں۔ تاہم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق ان میں 9.5 لاکھ افراد کے سوا کسی کو "پناہ گزین کارڈ" (پناہ گزینوں کی حیثیت) نہیں ملا۔

ایران خطے میں شامی حکومت کا مرکزی حلیف شمار کیا جاتا ہے جو مالی رقوم اور فوجی ماہرین کے ذریعے اس کی معاونت کر رہا ہے۔