.

تیونسی صدر کا سعودی پالیسی کی غیر مشروط حمایت کا اعلان

بیٹے کو سیاسی جانشین نہ بنانے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#تیونس کے صدر الباجی قائد #السبسی نے کہا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو سیاسی نظم نو نسق کے لیے اپنا جانشین نہیں بناؤں گا۔ ان کا کہنا ہے کہ تیونس #سعودی_عرب کی پالیسی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔

تیونس کے صدر نے ان خیالات کا اظہار ’’#العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا۔ اپنے انٹرویو میں انہوں نے تیونس کی موجودہ سیاسی اور امن وامان کی صورت حال، علاقائی مسائل اور عالمی موضوعات پر بھی اپنی حکمت عملی سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ عرب ممالک کو ماضی کی نسبت موجودہ وقت میں جیو پولیٹیکل تبدیلیوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے سرعت اور لچک کا مٖظاہرہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

قائد السبسی کا کہنا تھا کہ ’’ہم عرب ہونے کی حیثیت سے مشترکہ مستقبل کا اصولی مطالبہ کرتے ہیں۔ علاقے کے مستقبل کے لیے عرب ممالک کو آپس میں مذاکرات اور بات چیت کے کلچر کو پروان چڑھانا ہوگا۔ خلیج اور مشرق وسطی اور افریقا کی عرب اقوام اور حکومتیں اپنے ہاں امن استحکام مل جل کر کام کریں۔ خلیج اورمشرق وسطیٰ کا خطہ پوری دنیا میں زیادہ گرم محاذ بنتا جا رہا ہے۔

تیونسی صدر کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں سعودی عرب دہشت گردی کا سب سے زیادہ ہدف ہے۔ ہمارے پاس سعودی عرب کی پالیسیوں کی حمایت کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں ہے۔ ہمیں ہر صورت میں مملکت سعودی عرب کے پشت پر کھڑا ہونا ہے۔

تیونس کی حمایت کا پرجوش عزم

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے صدر الباجی قائد السبسی نے کہا کہ انہوں نے چندہ ہفتے قبل خلیجی ممالک سعودی عرب، کویت اور بحرین کا خصوصی دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران میں نے محسوس کیا کہ خلیجی خطےکے عرب ممالک میں تیونس کی حمایت کے لیے لگن، تڑپ اور جذبہ موجود ہے۔ خلیج کے تمام عرب ممالک کی علاقائی اور عالمی تغیرات سے نبرد آزما ہونے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل کے بھی پرجوش حامی ہیں۔ عرب ممالک کی حکومتوں کو بھی بہ خوبی اندازہ ہے کہ مشترکہ چیلنجزسے نمٹنے کے لیے ہرسطح پر باہمی تعاون کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔

ایک سوال کے جواب میں الباجی قائد السبسی کا کہنا تھا کہ خلیجی ممالک نے تیونس کی حمایت کا کھل کر اظہار کیا۔ اس لیے میں یہ بات پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ آنے والے وقتوں میں تیونس کے خلیجی عرب ممالک کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ میں نے خلیجی ملکوں کے دورے کے دوران وہاں کے سرمایہ کاروں کو تیونس میں سرمایہ کاری کی بھی دعوت دی۔ ہم تیونس میں سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک کے شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیداکریں گے۔ ہم باہمی فائدے کی بنیاد پر ایک دوسرے سے تعاون کریں گے اور وقت کے ساتھ ساتھ دو طرفہ تعاون کو ہرسطح پر مستحکم کیاجائے گا۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ تیونس میں امن وامان کی خرابی غیرملکی سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے۔ ہمارے ہاں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔

تیونس کی موجودہ صورت حال

تیونس میں ما بعد انقلاب امن وامان، معاشی اور سیاسی صورت حال پربات کرتے ہوئے صدر الباجی قائد السبسی نے کہا کہ پانچ سال قبل تیونس میں برپا ہونے والے انقلاب کے بعد ابھی تک ہم تبدیلی کے مراحل سے گذر رہے ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ تیونس کی موجودہ سیاسی اورامان وامان کی صورت حال بہت پیچیدہ ہے مگر ہم ان تمام مشکلات سے جلد ہی نکل جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ کے پڑوسی ہونے کی وجہ تیونس کی معیشت بھی اتارو چڑھائو کا شکار رہتی ہے۔ یورپی ملکوں کے معاشی بحرانوں کی وجہ سے ہم بھی معاشی بحران کا سامناکررہے ہیں۔ اس کے علاوہ خلیجی ممالک کے قدرتی تیل کی عالمی منڈی میں قیمت میں کمی نے بھی تیونس سمیت تمام عرب ممالک کو متاثر کیا ہے۔

تیونس کے حالات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں مسائل وراثت میں ملے مگر ہم نے تمام مسائل کا حل نکالنے کا عزم بالجزم کررکھا ہے۔ صدر السبسی نے کہا کہ اسلام پسند جماعت تحریک #النہضہ کی پچھلی حکومت کے دوران ملک منجمد نہیں ہوا۔ اعتدال پسند اسلام کے پیروکاروں کے لیے دروازے بند نہیں کیے ہیں مگر انہیں جمہوری چال چلن کو اپنانا ہوگا۔ اسلام پسندوں کے سیاسی نظام میں مدغم ہونے کے مواقع موجود ہیں مگر یہ تجربہ اسی وقت کامیاب ہوسکتا ہے جب وہ جمہوریت پر صدق دل سے یقین کرنے کا عزم کریں۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں قائد السبسی کا کہنا تھا کہ اقتصادی اور سماجی بہبود کی قیمت پر سیاسی کامیابی ممکن ہے۔ تیونس میں برپا ہونے والا انقلاب ابھی تک اپنے تمام مقاصد حاصل نہیں کرسکا ہے۔ اس کے دو بڑے مقاصد میں شہریوں کا باعزت روزگار کا معاملہ بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ القصرین اور سید بوزید جیسے علاقوں میں عوام کے احتجاجی مظاہرے وہاں کے حالات کے غماض ہیں۔ ہمیشہ حقوق سے محروم طبقہ احتجاج پر مجبور ہوتا ہے۔ ہمیں مظاہرین کے مطالبات کا احساس ہے اور ہم ان کے مطالبات کو نظرانداز نہیں کررہے ہیں مگر کچھ قوتوں نے احتجاجی تحریک کو ’ہائی جیک‘ کرنے کی مذموم کوشش کی ہے۔

احتجاجی تحریک ہائی جیک کی گئی

ان کا کہنا تھا تیونس میں دوسرے انقلاب کے نام پر احتجاج کی آڑ میں بعض قوتیں اپنے مخصوص مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ اگرچہ یہ ایک سیاسی نعرہ ہے مگر اس کے پیچھے ملک میں خوف وہراس پھیلانا، توڑپھوڑ کرنا، عوامی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا اورموجودہ منتخب سیاسی نظم کا تختہ الٹنا ہے۔ مگر میں خبر دارکرتا ہوں کہ دشمن کی سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ تبدیلی کا کوئی بھی راستہ صرف انتخاب کے ذریعے ہے قابل قبول ہے۔ احتجاج اور توڑپھوڑ کے ذریعے کسی کو ملک کو یرغمال نہیں بنانے دیا جائے گا۔

صدر الباجی قائد السبسی کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاجی تحریک کو ہائی جیک کرنے میں انتہا پسند ملوث ہیں۔ ہم انہیں اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ کون ہیں۔ بہ ظاہر وہ سیاسی لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں مگر در پردہ وہ ملک کو تباہ کرنا چاہتےہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا وہ کون سی قوتیں ہیں جو احتجاجی تحریک کو مخصوص انداز میں ہوا دے رہی ہیں توصدر السبسی نے ان کا نام لینے سے گریز کیا تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ وہ جلد ہی عوام کےسامنے وہ تمام چہرے بے نقاب کریں گے جو احتجاجی تحریک کو اغوا کرنے کی سازش میں ملوث ہیں۔

سیاسی موروثی کلچر دستور کے خلاف

ملک کی حکمراں جماعت ’’نداء تیونس‘ کو درپیش بحران کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر جماعت کے سابق سربراہ اور موجودہ صدر قائد السبسی نے کہاکہ ’نداء تیونس‘ میں پیدا ہونے والے بحران کے منفی اثرات سامنے آئے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ نداء تیونس کی قیادت میں پائے جانے والے اختلافات کو حکمت اور دانش مندی کے ساتھ ختم کیا جاسکتا ہے۔

بیٹے کو پارٹی کی قیادت یا اپنا سیاسی جانشین بنانے سے متعلق افواہوں پر بات کرتے ہوئے صدر السبسی کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایسا نہ کبھی سوچا اور نہ ہی وہ سوچ سکتے ہیں کیونکہ سیاسی موروثیت تیونس کے دستور کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ تیونس میں دستوری حکمرانی ہے، یہاں بادشاہت نہیں کہ میں بیٹے کو اپنا جانشین نامزد کروں۔ بیٹے کو جانیشن بنانے کا شوشہ جن لوگوں نے چھوڑا ہے انہوں نے براہ راست صدر کو مورد الزام ٹھہرانے کی مذموم کوشش کی ہے۔