.

دہشت گردی کا ردعمل، عوام کا اللہ پر ایمان پختہ: سعودی علماء کونسل

الاحساء میں مسجد پر حملہ آور ملعون ہیں، مصری مفتی اعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#سعودی_عرب کی سینئر علماء کونسل نے #الاحساء کے علاقے محاسن میں مسجد کو نشانہ بنانے دہشت گرد کارروائی کی شدید مذمت کی ہے۔ اس واقعے میں 2 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہوگئے تھے۔ سعودی (سرکاری) پریس ایجنسی کے مطابق کونسل کے سیکریٹریٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی بھی مملکت میں عدم استحکام اور فتنہ بھڑکانے کی ناکام کوششوں کا حصہ تھی۔ اللہ رب العزت کی مشیت، حکمرانوں کی سمجھ داری، سیکورٹی اہل کاروں کی چابک دستی اور سعودی عوام کے خبردار رہنے سے خبیث نیتوں پر مبنی یہ منصوبے ناکام ہوتے رہے ہیں۔

کونسل کے بیان میں باور کرایا گیا ہے کہ ان دہشت گرد کارروائیوں سے سعودی عوام کا اللہ تعالیٰ پر ایمان مزید پختہ ہوجانے کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ "خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ان کے ولی عہد اور نائب ولی عہد کی قیادت کی صورت میں اللہ رب العزت نے قول کی اجتماعیت اور صفوں میں یکجہتی کا جو احسان عظیم عطا فرمایا ہے، اس کی حفاظت کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم اس سیسہ پلائے وجود کی بھی حفاظت کریں جس نے ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر رکھا ہوا ہے۔ ہماری نسبت اس دین حنیف سے ہے اور ہمیں اس مملکت سعودی عرب نے اپنے دامن میں لے رکھا ہے جہاں مسلمانوں کے مقامات مقدسہ کا وجود ہے، یہاں سے اسلام کی کرن نمودار ہوئی اور انسانیت پر ہدایت کا نور منور ہوا."

دوسری جانب مفتی اعظم مصر ڈاکٹر شوقی علام نے الاحساء میں مسجد امام رضا پر دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے حملہ آوروں کو "دنیا و آخرت میں ملعون" قرار دیا ہے۔

اپنے بیان میں مفتی اعظم نے کہا کہ "یہ فاجر لوگ اللہ کے گھروں کی حرمت کا بھی خیال نہیں کرتے اور اس کے تقدس کو پامال کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں، ساتھ ہی یہ مسلمانوں کے درمیان فتنے کی آگ بھی بھڑکاتے ہیں اس لیے دونوں جہانوں میں موجب لعنت قرار پائیں گے"۔

ڈاکٹر شوقی نے مزید کہا کہ "شدت پسند فرقہ واریت پھیلانا چاہتے ہیں تاکہ خطے کو خانہ جنگی کی آگ میں جھونکا جاسکے اور اس طرح ہمارے ملکوں کو کمزور کرنے کے لیے کوششاں دہشت گرد تنظیموں کا مقصد پورا ہوجائے"۔ مصری مفتی اعظم نے سعودی عوام پر زور دیا کہ وہ فتنے اور اس کے شعلے بھڑکانے والوں کے سامنے یک صف ہوجائیں زمین پر فساد برپا کرنے والوں کا راستہ روکا جاسکے اور مملکت کی وحدت اور اس کے امن کو تحفظ حاصل ہوسکے۔